پنجاب میں 57 لاکھ 80 ہزار ایکڑ رقبے پر کپاس کاشت کی گئی

پنجاب میں 57 لاکھ 80 ہزار ایکڑ رقبے پر کپاس کاشت کی گئی

لاہور (پ ر) صوبہ پنجاب میں 60 لاکھ ایکڑ ہدف کے مقابلہ میں 57 لاکھ 80 ہزار ایکڑ رقبہ پر کپاس کاشت کی گئی ہے جس میں سے 48 لاکھ 93 ہزار ایکڑ رقبہ کپاس کے مرکزی علاقوں پر مشتمل ہے۔ یہ بات سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ، ملتان میں کپاس کی فصل کی صورتحال سے متعلق ایک جائزہ اجلاس کے دوران بتائی گئی۔ ڈاکٹر نورالاسلام، ڈائریکٹر جنرل زراعت (ریسرچ)، ڈاکٹر انجم علی، ڈاکٹر عابد محمود، ڈاکٹر حافظ محمد سلیم، محمد زاہد، محمد رفیق اختر، ڈاکٹر ظفر قریشی کے علاوہ NIBGE، ترقی پسند کاشتکاروں کے نمائندوں، فخر امام اور محکمہ زراعت کے دیگر افسران نے بھی شرکت کی۔
ڈائریکٹر جنرل زراعت (توسیع) نے اجلاس کو بتایا کہ کپاس کے کاشتہ علاقوں میں اس سال کماد کے زیرکاشت رقبہ میں اضافہ ہوا ہے اور گذشتہ سال کے کاشتہ 15 لاکھ ایکڑ رقبہ کے مقابلہ میں امسال پنجاب میں 18 لاکھ ایکڑ رقبہ پر کماد کی فصل کاشت کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کپاس پر لشکری سنڈی کا حملہ صرف مارچ میں کاشت کی گئی فصل پر مشاہدہ میں آیا ہے جبکہ مئی میں کاشت کی گئی فصل اس کیڑے حملہ سے محفوظ ہے۔ اجلاس میں ماہرین نے بتایا کہ موجودہ درجہ حرارت کپاس کی فصل پر سنڈیوں کے حملہ کیلئے انتہائی سازگار ہے تاہم صوبہ میں وسیع پیمانے پر بی ٹی اقسام کی کاشت کی وجہ سے فصل سنڈیوں کے حملہ سے محفوظ ہے۔ ڈائریکٹر کاٹن نے اجلاس کو بتایا کہ دنیا میں کہیں بھی کپاس کی ایسی بی ٹی قسم نہیں ہے جس میں لشکری سنڈی کے خلاف 100 فیصد قوت مدافعت موجود ہو۔