انٹی منی لانڈرنگ قانون پر مو¿ثر عملدرآمد کرایا جائے: ڈاکٹر قیس اسلم

لاہور (کامرس رپورٹر) ہنڈی کے ذریعے روزانہ 3 سے 4 کروڑ ڈالر پاکستان سے باہر بھیجے جانے کی رپورٹ پر ماہر اقتصادیات ڈاکٹر قیس اسلم نے کہا ہے کہ انٹی منی لانڈرنگ قانون پر مو¿ثر انداز میں عملدرآمد نہ کرنے کے باعث لوگ ہندی کے ذریعے اپنا غیر ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بااثر طبقہ پاکستان میں ٹیکسوں سے بچنے کیلئے ہنڈی کے ذریعے اپنا کالا دھن بیرون ملک منتقل کرتا ہے اور پھر بنکنگ کے ذریعے اسی کالے دھن کو دوبارہ ملک میں منتقل کیا جاتا ہے جس سے کالا دھن سفید بھی ہو جاتا ہے اور اس پر کوئی ٹیکس بھی عائد نہیں ہوتا کیونکہ پاکستان میں بیرون ملک سے آنے والی ترسیلات ٹیکس فری ہیں۔ انہوں نے ہنڈی کے ذریعے غیر ملکی زرمبادلہ پاکستان سے باہر منتقل کئے جانے کی دوسری وجہ ملک کی کمزور معیشت بتائی جاتی ہے کیونکہ جن لوگوں کے پاس پیسہ ہوتا ہے وہ کوشش کرتے ہیں کہ اپنے سرمایے کو اس جگہ منتقل کریں جہاں حالات پرامن ہوں اور شرح منافع بہتر ہو۔