سٹیٹ بنک کی جانب سے وفاقی حکومت کے قرضوں کو مہنگائی کی سب سے بڑی وجہ قرار دیئے جانے کے باوجود مالی سال دو ہزار دس گیارہ میں بجٹ سپورٹ کے لئے حکومتی قرضوں کا حجم سات سو ارب سے تجاوز کرگیا۔

سٹیٹ بنک کی جانب سے وفاقی حکومت کے قرضوں کو مہنگائی کی سب سے بڑی وجہ قرار دیئے جانے کے باوجود مالی سال دو ہزار دس گیارہ میں بجٹ سپورٹ کے لئے حکومتی قرضوں کا حجم سات سو ارب سے تجاوز کرگیا۔

سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق یکم جولائی دو ہزار دس سے پچیس جون دو ہزارگیارہ کے دوران حکومت نے بجٹ سپورٹ کے لئے سات سو سولہ ارب روپے کے قرضے لئے جب کہ مالی سال دو ہزارنودس میں قرضوں کا یہ حجم چار سو باون ارب روپے تھا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے کمرشل بینکوں سے پانچ سو اڑتالیس ارب روپے کے قرضے لئے جس نے نجی شعبے کو شدید مشکلات سے دوچار رکھا۔ جبکہسٹیٹ بینک سے دوسوایک ارب روپے کے قرضے حاصل کرکے بجٹ خسارے کو پورا کیا گیا۔ معاشی ماہرین کے مطابق حکومت کے قرضوں میں گزشتہ سال بے پناہ اضافہ مالی بے ضابطگیوں کی سب سے بڑی وجہ رہا۔