نجی اداروں کا ادغام کم وقت میں کاروبار بڑھانے کا بہترین طریقہ ہے : پاکستان اکانومی واچ

لاہور (ثناءنیوز) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ نجی اداروں کا ادغام کم سے کم وقت میں کاروبار بڑھانے کا بہترین طریقہ ہے کیونکہ اس میں کشادگی یا نیا کاروبار کھولنے کی مشقت گوارا نہیں کرنی پڑتی۔ اس سے ادارے کا امیج، سروس کوالٹی، پہنچ اور شراکت داروں مالیاتی حالت بہتر ہوتی ہے۔ اگر ادغام مسابقتی کاروبار کو ختم کرنے، ٹیکس بچانے، سٹاک ایکسچینج تک فوری رسائی یا قانون کو فریب دینے کے لئے کیا جائے تو لاحاصل ہے۔ ادغام کے نتیجہ میں بے روزگاری اور شراکت داروں کی حق تلفی بھی نہیں ہونی چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ کمزور مالیاتی اداروں کے ادغام کی پالیسی ملکی مفاد کے خلاف ہے۔ ملک کو بحران سے بچانے کے لئے مالیاتی اداروں کے ادغام کی پالیسی پر فوری نظر ثانی کی جائے اور کمزور اداروں کو مستحکم کمپنیوں میں ضم کردیا جائے۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا کہ امریکہ میں 2008ءسے اب تک 247 بینک دیوالیہ ہو چکے ہیں اور 702 کی حالت پتلی ہے مگر ان کا ادغام نہیں کیا گیا۔ امریکی ریگولیٹروں کی غفلت سے ان بینکوں کے علاوہ انوسٹمنٹ بینکنگ انڈسٹری، سب سے بڑی انشورنس کمپنی اور گھروں کی تعمیر کے لئے قرضہ دینے والے دنیا کے سب سے بڑے ادارے مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں اور ہم یہ غلطی دہرانے کی کوشش نہیں کر سکتے۔ انھوں نے کہا کہ رسک منیجمنٹ کی تکنیک کو بھی بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو نقصان سے بچایا جا سکے۔ انھوں نے کہا کہ 50فیصد کارپوریٹ ادغام ناکام ہو جاتے ہیں اسلئے ان معاملات کو بہترین انداز میں چلانے کے لئے ایک نئے ریگولیٹر کی ضرورت ہے۔