امریکہ کی جنگ لڑ رہے ہیں‘ اس کی منڈیوں تک رسائی حاصل نہیں : اپٹما

لاہور (وقت نیوز رپورٹ) ٹیکسٹائل کے شعبے میں حکومتی سطح پر جھوٹ بولنے اور دھوکے دینے جیسے اقدامات نے اس شعبے کو بے حد نقصان پہنچایا ہے، امریکہ کی جنگ ہم لڑ رہے ہیں مگر ہمیں امریکہ اور یورپ کی منڈیوں تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ بنگلہ دیش میں کپاس کا ایک پودا نہیں اُگتا مگر مستحکم پالیسیوں کی وجہ سے ہمارے سامنے کھڑا ہے۔ ویلیو ایڈڈ ٹیکس کسی بھی صورت ادا نہیں کیا جائے گا۔ حکومت کے ٹیکسٹائل کے شعبے میں غلط اقدامات کے پیش نظر اپٹما اپنی ایک کمیٹی تشکیل دے گی۔ ان خیالات کا اظہار آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین پنجاب سیٹھ اکبر، ممبر میجنگ کمیٹی اپٹما پنجاب کے شاہد مظہر پوری اور کسان بورڈ پاکستان کے سینئر نائب صدر سرفراز احمد خان نے وقت نیوز کے پروگرام ”ان بزنس“ میں کیا، میزبان ندیم بسرا تھے ایسوسی ایٹ پروڈیوسر وقار قریشی اور پروڈیوسر شاہد ندیم تھے۔ سیٹھ اکبر نے کہا کہ ہم کاشتکار سے عالمی سطح کی قیمت پر کپاس خریدتے ہیں مگر ہمیں بین الاقوامی سطح کی قیمت نہیں مل رہی۔ سٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ نہیں لیا جارہا۔ ریسرچ کےلئے جدید ٹیکنالوجی لانا ہوگی اور ریسرچ کے شعبوں کو یورپیئن ممالک کی طرز کا بنانا ہوگا۔ شاہد مظہر پوری نے کہا کہ پنجاب کو بجلی اور گیس پر ٹارگٹ کیا جارہا ہے یہی وجہ ہے کہ بیرون سرمایہ کار یہاں نہیں آرہے۔ آج ہم اپنا ہی کپاس کی گانٹھوں کا ٹارگٹ پورا نہیں کر رہے اگر یہ ٹیکنالوجی ہو تو ہم بھارت کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ ویٹ کی دوسری شکل جی ایس ٹی ہے جو ہم حکومت کو ویٹ کی صورت میں نہیں دیں گے۔ سرفراز احمد خان نے کہا کہ زراعت میں 80 فیصد چھوٹے کاشتکار ہیں مگر ان کی تربیت پر کسی کی توجہ نہیں۔ کپاس کی کروڑوں گانٹھیں پیدا کرنا کوئی بہادری نہیں۔ ٹیکسٹائل کے شعبے کی مشکلات ختم کرنے کےلئے کوئی اقدامات آج تک نہیں کئے گئے۔ کسان اپنی فصلوں کو پانی اگر مناسب طریقے سے دیں تو اعلیٰ معیار کی فصل پیدا کر سکتے ہیں۔