ٹیکسٹائل انڈسٹری کے ذمے بینکوں کے 15 کھرب 36 ارب واجب الادا ہیں: سٹیٹ بینک

لاہور (اے پی پی)پاکستان ٹیکسٹائل انڈسٹری کے ذمہ مختلف قومی بینکوں اور مالیاتی اداروں کے15کھرب 36ارب روپے کے قرضے واجب الادا ہیں۔ تفصےلات کے مطابق سپننگ،ویوننگ اور فنشنگ ملوں کے ذمے 1277ارب روپے جبکہ ریڈی میڈ گارمنٹس سیکٹرکے ذمہ 97ارب روپے کے قرضے واجب الادا ہیں جبکہ درجنوں ٹیکسٹائل ملز اور ریڈی میڈ گارمنٹس فیکٹریوں نے خود کو دیوالیہ قرار دلا کر قرضوں کی ادائیگی بند کر دی ہے ۔سٹیٹ بنک کی جاری کردہ اےک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا دسمبر 2012ءتک سپننگ ملوں نے 53ارب روپے،ویوننگ ملوں نے 33ارب روپے،سینتھےٹک ٹیکسٹائل ملوں نے21ارب روپے،نٹ ویئر فیکٹریوں نے 33ارب روپے،کارپٹ سیکٹر نے 7ارب روپے،میڈ آپ ٹیکسٹائل ملوں نے 46کروڑ روپے،مینو فیکچررز آف ویوننگ ایپریل نے 35ارب روپے ،ریڈی میڈ گارمنٹس مینوفیکچررز نے 56ارب روپے ،ڈائننگ ملوں نے 5ارب روپے کے قرضے بینکوں اور مالیاتی اداروں کو ادا کرنے ہیں ۔دوسری جانب ٹیکسٹائل اور ریڈی میڈ سیکٹر کا کہنا ہے کہ گزشتہ پانچ برس کے دوران بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ،شرح سود کا زائد ہونا اور خام مال مہنگا ہونے ،پیداواری لاگت بڑھنے کی وجہ سے ٹیکسٹائل ملز مالکان مالی مشکلات کا شکار ہیں جس کی وجہ سے بینکوں کو قرضوں کی ادائیگیاں نہیں ہو پا رہیں ۔بینکوں کی جانب سے مارک اپ مےں اضافہ بھی قرضوں کی ادائےگی مےں رکاوٹ ہے ۔