دہشت گردی سے تباہ معیشت کیلئے بیرونی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے:خواجہ عثمان

ملتان(اے پی پی) ایوان تجارت و صنعت ملتان کے صدر خواجہ محمد عثمان ، پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے )کے ایگزیگٹو ممبرو میڈیا کو آرڈینیٹر شہزاد احمد خان اور آل پاکستان انجمن تاجران جنوبی پنجاب کے صدر خواجہ سلیمان صدیقی نے کہا ہے کہ دنیا کو دہشت گردی سے محفوظ بنانے کے لئے مسلسل قربانیاں دینے والے پاکستان کو اپنی معیشت مضبوط بنانے اور تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی کے لئے بڑی رقوم اور بیرونی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے جس کے لئے دنیا بھر کے ممالک کو پاکستان پر الزامات لگانے کی بجائے آگے بڑھ کر اس کی مدد اور دہشت گردو ںکے خاتمے کیلئے جدید ٹیکنالوجی اور عملی معاونت فراہم کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ دنیا کو سمجھ لینا چاہیے کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف سینہ سپر ہو کر دنیا بھر کو دہشت گردوں سے محفوظ رکھ رہا ہے۔انہوںنے کہاکہ امریکہ میں 9/11 کے بعد دہشت گردی کے خاتمے کیلئے شروع ہو نے والی کارروائیوں اور اس کے نتیجے میں افغانستان میں طویل جنگ اور بد امنی کی وجہ سے پاکستان کو 2001ء سے لے کر مارچ 2014ء تک 8264.00 بلین روپے سے زیادہ کا نقصان برداشت کر نا پڑا ہے۔ افغانستان میں دہشت گردوں اور طالبان کے خلاف شروع ہو نے والی کارروائی کے نتیجے میں نہ صرف پاکستان میں افغان مہاجرین کا سیلاب امڈ آیا بلکہ اس سے پاکستان کے تمام سیکٹرز میں ہونے والی ترقی کاسفر تنزلی کی طرف جبکہ معیشت بحرانی کیفیت کا شکار ہو گئی۔