عالمی مالیاتی کارپوریشن نے پاکستان سے و دہولڈنگ ٹیکس کی بھی چھوٹ مانگ لی

عالمی مالیاتی کارپوریشن نے پاکستان سے و دہولڈنگ ٹیکس کی بھی چھوٹ مانگ لی

کراچی(آن لائن) بین الاقوامی مالیاتی کارپوریشن نے پاکستان سے ڈیوٹی اور ٹیکسوں کے علاوہ ود ہولڈنگ ٹیکس سے بھی چھوٹ مانگ لی ہے جبکہ وزارت خزانہ نے آئی ایف سی کی جانب سے موصول ہونے والا لیٹر رائے کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو بھجوادیا ہے۔ ندیم اے صدیقی کی جانب سے وزارت خزانہ کو لیٹر لکھا گیا ہے جس میں 5 مارچ 2015 کو وزارت خزانہ کے مشیر رانا اسد امین کے ساتھ ہونے والی ملاقات کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں آئی ایف سی پر ود ہولڈنگ ٹیکس سے متعلقہ شقوں کے نفاذ کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دستاویز میں کہا گیا کہ آئی ایف سی عالمی بینک گروپ کا ممبر ادارہ ہے جو دنیا کے مختلف ممالک کو قرضے و فنانسنگ فراہم کررہا ہے۔ آئی ایف سی ایکٹ 1956 کو پاکستان کی جانب سے بھی منظور کرکے نافذ کیا گیا ہے اور آئی ایف سی ایکٹ کی سیکشن 5کے مطابق ایگریمنٹ کے آرٹیکل 6 میں آئی ایف سی اور اس کے اثاثہ جات، اس کی آمدنی اور اسکی ٹرانزیکشنز کو ٹیکس اور ڈیوٹیوں سے استثنیٰ حاصل ہے، اس کے علاوہ کارپوریشن کوئی ڈیوٹی اور ٹیکس اکٹھا بھی نہیں کرے گی، اسی طرح آئی ایف سی کی جانب سے ڈائریکٹرز اور اپنے ملازمین کو دی جانے والی تنخواہوں پر بھی کسی قسم کا کوئی ٹیکس عائد نہیں ہوگا لیکن حکومت پاکستان کی جانب سے فنانس ایکٹ 2008 کے تحت انکم ٹیکس آرڈیننس میں ایک ترمیم متعارف کرائی گئی۔ بین الاقوامی مالیاتی کارپوریشن کی جانب سے لکھے جانے والے لیٹر میں کہا گیا ہے کہ آئی ایف سی ایکٹ 1956 کے تحت آئی ایف سی پر ود ہولڈنگ سے متعلقہ سیکشن 150،151،152،1523، 233کا اطلاق نہ کیا جائے۔
مالیاتی کارپوریشن