ایک ماہ کے دوران اشیائے خوردنی 40 فیصد تک مہنگی

لاہور (کامرس رپورٹر) اشیائے خوردنی کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لئے حکومتی موثر اقدام نہ ہونے کے باعث ناجائز منافع خوروں نے مارکیٹ فورسز کی آڑ میں قیمتوں میں ایک ماہ کے دوران 25 سے 40 فیصد اضافہ کر دیا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ بیشتر اشیا ملک میں وافر مقدار میں موجود ہیں۔ آٹے کی قیمت میں 8 روپے فی کلو‘ گھی 4‘ باسمتی چاول 20‘ باسمتی 386 چاول 20‘ چاول ٹوٹا 20‘ سرخ مرچ پسی ہوئی 5‘ کالی مرچ 55‘ لونگ 20‘ دال چنا 4‘ دال ماش 18‘ برائلر مرغی کا گوشت 5 اور ایک درجن فارمی انڈوں کی قیمت میں 8 روپے اضافہ ہوا۔ اس طرح بیکری آئٹمز کی قیمتوں میں بھی گذشتہ 4 ماہ کے دوران 20 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ عوامی حلقوں نے بڑھتی ہوئی مہنگائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے میں ناکام ہے‘ ناجائز منافع خور جب چاہتے ہیں طلب اور رسد کی آڑ میں قیمتوں میں گٹھ جوڑ کر کے اضافہ کر لیتے ہیں۔