اسمبلیوں سے منظوری کیلئے اصلاح شدہ جی ایس ٹی ایک ماہ کیلئے مﺅخر

لاہور (کامرس رپورٹر) وفاقی حکومت نے اصلاح شدہ جنرل سیلز ٹیکس کی آئینی حیثیت نہ ہونے کے باعث اسے قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں سے منظور کرانے کیلئے ایک ماہ (نومبر) تک کیلئے مﺅخر کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اصلاح شدہ جنرل سیلز ٹیکس عائد کرنے کے دو طریقے ہیں ایک صدارتی آرڈیننس اور دوسرا پارلیمنٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ذریعے اسے منظور کروایا جائے اور حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اصلاح شدہ جنرل سیلز ٹیکس کو پارلیمنٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں سے منظور کرایا جائے گا۔ اس حوالے سے انسٹیٹوٹ آف اسلامک بنکنگ اینڈ فنانس کے چیئرمین ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے کہا ہے کہ اصلاح شدہ جی ایس ٹی عائد کرنے کا اختیار حاصل نہیں تھا اس کے باوجود حکومت پاکستان نے 20 نومبر 2008ءکو آئی ایم ایف کو خط بھیجا جس میں یکم جولائی 2010ءسے ویلیو ایڈڈ ٹیکس لگانے کا وعدہ کیا جسے بعد میں اصلاح شدہ جنرل سیلز ٹیکس میں تبدیل کردیا۔ آئی ایم ایف کو بھی پتہ تھا کہ حکومت پاکستان کو ایسی یقین دہانی کا اختیار نہیں۔ حکومت ایک سال تک یہ معاملہ اسمبلیوں میں لائی اور نہ ہی کاروباری برادری کو اعتماد میں لیا اس کا منصوبہ تھا کہ انتہائی کم وقت میں اصلاح شدہ جنرل سیلز ٹیکس کے بل کو اسمبلیوں میں پیش کیا جائے اور اسکی مخالفت ہو تو اسمبلیوں پر تلوار لٹکا دی جائے کہ آئی ایم ایف قرضہ نہیں دے گا لیکن یہ حربہ ناکام رہا اور اسمبلیوں نے اس ٹیکس پر تحفظات کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں اس کی انکوائری کی جائے کہ حکومت نے آئی ایم ایف کو خط پارلیمنٹ اور چاروں اسمبلیوں کی منظوری لئے بغیر کیسے بھیجا۔