بھارت کی جانب سے اکنامک کو ریڈور کی مخالفت کوئی معنی نہیں رکھتی: عبدالباسط

لاہور (کامرس رپورٹر) بھارت کی طرف سے گوادر بندرگاہ کو ناکا م بنانے کی کوششیں اور پاک چین اکنامک کو ریڈور کی مخالفت کوئی معنی نہیں رکھتی ۔ بھارتی وزیر خارجہ کے مخالفانہ بیان کی پر زور مذمت کرتے ہیں ۔ پاکستان ایک آزاد و خود مختار ملک ہے۔ حکومت ملک میں سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیاں بڑھانے اور عوام کے لئے خوشحالی کے منصوبے شروع کرنے کے سلسلے میں بیس کروڑ عوام کے سامنے جواب دہ ہے ۔عبدالباسط نے کہا ہے کہ چین اور پاکستان دونوں مخلص اور گہرے دوست ہیں ۔ اپنے اپنے عوام کی فلاح اور خیر خواہی چاہتے ہیں ۔ انہیں باہمی معاہدوں کے سلسلے میں کسی دوسرے ملک سے اجازت کی ضرورت ہے اور نہ ہی ایسا کبھی کیا جائے گا ۔ عبدالباسط نے کہا ہے کہ جب سے گوادر کی بندرگاہ مکمل ہوکر آپریشنل ہوئی ہے اور گوادر پور ٹ سے کاشغر تک اکنامک کوریڈور کی تعمیر کے لیے چین نے وسائل فراہم کرنے کا معاہدہ کیا ہے نریندر مودی سرکاری سخت تکلیف میں ہے۔ تیزی سے بھاگ دوڑ کر رہے ہیں کہ گوادر بندرگاہ ناکام ہوجائے اور کوریڈور تعمیر نہ ہو سکے۔ نریندر مووی خود چین گئے ۔ افغانستان کے صدر کی منت سماجت کرتے رہے کہ گوادر گہرے پانی کی بندرگاہ کی بجائے ایران کی چاہ بہار کو استعمال کیا جائے۔ اب بھارتی وزیر خارجہ نے تو بلی پوری طرح تھیلے سے باہر نکال دی ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان اکنامک کوریڈور نہیں بننے دی جائے گی ۔ پاکستان نے بھارت کے بارے میں غلط سوچ کبھی نہیں اختیار کی امریکہ کے صدر بارک اوباما چند ماہ پہلے بھارت پہنچے۔ معیشت اور عسکری ساز و سامان کی فراہمی سمیت معاہدوں کی بارش کر دی۔ پاکستان نے کبھی برا نہیں منایا ۔ حالانکہ پاکستان نے دھشت گردی کی جنگ میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے فرنٹ لائن اتحادی بن کر بہت سا جانی و مالی نقصان اٹھایا۔