لنڈا بازار میں پرانے کپڑوں کی درآمد پر ٹیکس واپس لیاجائے: ملک عظمت

لنڈا بازار میں پرانے کپڑوں کی درآمد پر ٹیکس واپس لیاجائے: ملک عظمت

 لاہور( خبرنگار)  صدر مسلم لیگ( ن)  ٹریڈرز ونگ لنڈا بازار( بورڈ) ملک عظمت اللہ نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ لنڈا بازار میں فروخت ہونیوالے  پرانے کپڑوں  کی درآمد پر عائد کیاگیا 10 فیصد جنرل سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس واپس لیا جائے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت غریب عوام کیلئے  درد دل رکھنے والی قیادت کی حکومت  ہے۔ مگر بدقسمتی  سے اس حکومت کے وزیرخزانہ نے پہلے ہی بجٹ میں سردیوں کے موسم  میں غریبوں کا ٹن ڈھانپنے کیلئے درآمد ہونیوالے پرانے کپڑوں پر22.5 فیصد ٹیکس  کا اضافہ کردیا۔ جس سے لنڈے بازار کا کاروبار بُری طرح متاثر ہوا۔ لنڈے بازار کے تاجروں نے مسلم لیگی اراکین قومی اسمبلی کو درخواست کی جس پر ٹیکس کم کرکے10فیصد  کردیا گیا۔ جو کہ بہت زیادہ ہے۔ اتنا ٹیکس  صدر ضیاء الحق ، میاں نواز شریف کے برائے دور، آصف زرداری کے دورحکومت میں بھی عائد نہیں کیاگیا۔  ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں لنڈا بازار کا کاروبار ٹیکس  فری تھا۔ جس کی وجہ سے غریبوں کو پہننے کیلئے سستا کپڑا میسر تھا۔ گزشتہ دور میں بمشکل 5 فیصد مختلف  ٹیکس وصول کیے جاتے تھے۔  جو موجودہ وزیرخزانہ نے بڑھا کر دوگناکردیئے ہیں۔ جس سے لنڈا  بازار میں فروخت  ہونیوالی استعمال شدہ چیز مہنگی ہوگئی ہے اور خریدار مہنگائی کی شکایت کررہا ہے انہوںنے وزیراعظم میاں نواز شریف سے مطالبہ کیا کہ پرانے کپڑوں  اور پرانی اشیاء اول تو ٹیکس ختم کیاجائے یا پھر گزشتہ حکومت  کے دور والے ٹیکس  بحال  کردیئے جائے۔