روپے کی گراوٹ سے ملک کو770 ارب کا نقصان اٹھانا پڑا: ابراہیم مغل

روپے کی گراوٹ سے ملک کو770 ارب کا نقصان اٹھانا پڑا: ابراہیم مغل

لاہور(نیوزرپورٹر)سربراہ اگری فورم پاکستان ڈاکٹرا براہیم مغل نے کہا ہے کہ روپے کی قدر گرانے سے چند افراد کو فائدہ ہوا تاہم ریاست کو 770  ارب روپے کا مالی نقصان ہوا۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اس وقت ہم نے 60  ارب ڈالر بیرونی قرضہ دینا ہے اور درآمدات و برآمدات کا فرق 17  ارب ڈالر ہے جنہیں مجموعی طور پر ملاکر روپے کی قدر کم کرنے سے ملک کو شدید نقصان ہوا اور اس نقصان کو پورا کرنے کیلئے جو 600  ارب روپے کے نوٹ چھاپے گئے وہ ملک کی مدد کرنے کی بجائے افراط زر کا باعث بنے روپے کی قدر میں کمی سے جو 770  ارب روپے کا نقصان ہوا اس سے مہنگائی کی شرح میں 15سے20فیصد کے درمیان اضافہ ہوگیا ملک کے فنانشل مینجر ریاست کے مسائل کا حل پرانے طریقوں میں ڈھونڈ رہے ہیں جبکہ اس وقت مہنگائی ، لوڈ شیڈنگ ، بیروزگاری وخوراک کی کمی کا حل میکرو لیول پر پروڈکشن 20 سے30 فیصد بڑھانے کے درمیان مخفی ہے۔ڈاکٹر ابراہیم مغل نے واضح کیا کہ ملک کو اگر اسی طرح چلایا گیاجس طرح یکم جون 2013سے چلایا جا رہا ہے تو ملک میں جلد افراط زر کی شرح 20%سے اوپر چلی جائے گی ،مہنگائی آسمان سے باتیں کرے گی ، بیروزگاری میں 8 سے10 فیصدمزید اضافہ ہو سکتا ہے اور یہ بھی ڈر ہے کہ اشرافیہ کے ہاتھوں میں پیسے تو ہوں مگر انہیں ملک میں ضروریات زندگی کی جن میں خوراک، پہناوا، ادویات و دیگر چیزیں شامل ہیں نا مل سکیں۔