حکومت ریونیو سسٹم میں خامیاں دور کرے: ملک طاہر جاوید

لاہور (کامرس رپورٹر) پیاف نے تیزی سے بڑھتے ہوئے مالی خسارہ پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا ہے کہ مالی امور اور ریونیو اکٹھا کرنے کے نظام میں خامیوں اور کمزوریوں کو دور کیا جائے۔ پیاف کے چیئرمین ملک طاہر جاوید نے کہا ہے ریونیو ٹارگٹ پر متعدد بار نظرثانی کرنے کے باوجود مالی خسارہ میں آٹھ فیصد سے زیادہ ناقابل یقین اضافہ اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ ملک کے مالی اور ریونیو اکٹھا کرنے کا نظام میں کمزوریاں ہیں جو اپنے مقاصد پورے نہیں کر رہا اس لئے پیاف کے چیئرمین نے تجویز دی کہ اگر اندرونی و بیرونی قرضوں کو روکنے کے لئے مالی ایمرجینسی کا نفاذ ضروری سمجھیں تو اس سے گریز نہ کیا جائے بصورت دیگر تیزی سے بڑھتا ہوا مالی خسارہ‘ سست رفتار پیداواری عمل معاشی تباہی کا باعث بنے گا۔ پیاف کے چیئرمین نے کہا ہے کہ توانائی کے بحران‘ امن و امان کی خراب صورت حال اندرونی و بیرونی سرمایہ کاری کے فقدان اور سابقہ حکومت کے بے تحاشا قرضوں کی وجہ سے مینوفیکچرنگ سیکٹر نڈھال ہو چکا اور معیشت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے ۔ ملک طاہر جاوید نے کہا ہے کہ سابقہ حکومت نے پانچ سال کے دوران جی ڈی پی کی شرح میں اضافہ کے سلسلے میں کوئی قدم نہیں اٹھایا اور نہ ہی ٹیکس نیٹ میں وسعت کے لئے کوئی کام کیا گیا۔ انہوں نے کہا ہے معیشت کو زبوں حالی کی کیفیت سے نکالنے کے لئے آئندہ دس سے پندرہ سال تک جی ڈی پی کی شرح سات فیصد سے زیادہ ہونی چاہئے۔