پیپلز پارٹی بیلجئم کا ہنگامی اجلاس، پارٹی میں انتشار پھیلانے والوں کیخلاف قرارداد منظور

برسلز (نامہ نگار) پاکستان پیپلز پارٹی بیلجئم کا ہنگامی اجلاس پیپلز پارٹی یورپ کی سرکردہ شخصیت ملک امان اللہ کی صدارت میں ہوا جس میں بیلجئم بھر سے کارکنوں اور عہدیداران سمیت مجلس عاملہ کے کارکنوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی اس موقع پر پی پی پی بیلجئم کے عہدیداروں کی طرف سے مرکزی قیادت پر تنقید پر سخت و غم و غصہ کا اظہار کیا گیا۔ پی پی پی بیلجئم کے مرکزی عہدے دار ارشد بیگ نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی پی پی بیلجئم کے عہدیدار وسیم اختر شیخ شکیل احمد اور یوسف اختر نے مبینہ طور پر پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل جہانگیر بدر اوورسیز ڈیکس کی انچارج فوزیہ حبیب رحمان ملک، شاہ محمود قریشی صدر آصف زرداری سیکرٹری اطلاعات فوزیہ وہاب پر بلاوجہ تنقید کر کے پارٹی پارٹی کے اندر انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی ار پارٹی قوانین کی خلاف ورزی کی ان کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔ کارروائی اس موقع پر ملک امان اللہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی میں ایسے افراد کا محاسبہ ضروری ہے جو پارٹی قوانین کی خلاف ورزی اور قائدین پر بلاوجہ تنقید کرتے ہوں انہوںنے کہا کہ پارٹی عہدیداروں کے خلاف کسی قسم کا پروپیگنڈہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ بعد ازاں کارکنوں، عہدیداروں، مجلس عاملہ کے ممبران کی مشاورت سے ایک قرارداد پیش کی گئی جسے باہمی رضامندی سے منظور کرتے ہوئے مرکزی قیادت سے اپیل کی گئی کہ وہ ان عہدے داران کو ان کے عہدوں سے فوری طور پر ہٹا دیں جو بیرون ممالک میں پارٹی کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ قیادت پر بلاجواز ........ کر کے پارٹی کے اندر انتشار پیدا کر رہے ہیں۔ صحافیوں پر تشدد اور قانون کو ہاتھ میں لے کر ملک و قوم کا نام بدنام کر رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک امان اللہ کی زیر نگرانی انتخابات کرائے جائیں۔