سوت: فورسر کے قافلے پر ریموٹ کنٹرول بم سے حملہ / 4جاں بحق

سوات/ مینگورہ (نامہ نگار+ مانیٹرنگ نیوز+ ایجنسیاں) سوات میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر ریموٹ کنٹرول بم سے حملہ میں 2سکیورٹی اہلکار جاں بحق 8زخمی ہو گئے‘ فورسز کی گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ سوات کے مختلف علاقوں میں فائرنگ اور فورسز کی بمباری سے خاتون اور اسکے 2بچوں سمیت 11افراد جاں بحق ہو گئے۔ تحریک طالبان نے لڑکیوں کے تعلیم حاصل کرنے پر پابندی واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے اور چوتھی جماعت تک لڑکیوں کو تعلیم کی اجازت دی ہے۔ وفاقی وزیر مذہبی امور حامد سعید کاظمی نے کہا ہے کہ سوات میں شریعت نافذ ہوئی تو اسے قانونی حیثیت حاصل ہو گی۔ تحریک طالبان کے امیر مولانا فضل اللہ نے اپنے ساتھیوں کو فدائی حملوں کیلئے تیار رہنے کا حکم دیدیا ہے۔ مولانا فضل اللہ نے الزام لگایا ہے کہ خود فورسز نے بھی بعض تعلیمی اداروں کو تباہ کیا ہے جسکے ان کے پاس وڈیو ثبوت موجود ہیں۔ مزاحمت کاروں نے مٹہ پولیس سٹیشن پر حملہ کیا ہے‘ فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا ہے۔ درہ آدم خیل میں سرچ آپریشن کے دوران 5عسکریت پسند گرفتار اور درجنوں گھر مسمار کر دئیے گئے۔ مردان کے نواحی علاقہ کائلنگ باندئی کے ناظم ندیم باچا کے گھر پر دستی بم سے حملہ کیا گیا ہے جس سے گھر کا گیٹ اور گھر میں کھڑی گاڑی کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ہنگو ٹل شہر تورغہ میں ہونے والے واقعہ کے بعد کرم ایجنسی میں ایک بار پھر حالات کشیدہ ہو گئے ہیں۔ ٹل پاڑہ چنار روڈ بند ہو گئی ہے۔ نوشہرہ پولیس لائن اور محلقہ فش مارکیٹ پر مزاحمت کاروں نے یکے بعد دیگرے 3راکٹ فائر کئے ہیں۔ 2دریائے کابل میں اور ایک درختوں میں جا گرا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ کرم ایجنسی میں دوسرے روز آمدورفت کے راستے بند رہے۔ ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز کا قافلہ سوات واپس آ رہا تھا کہ گٹ کوٹو تھانہ کے قریب پہلے سے نصب شدہ ریموٹ کنٹرول بم زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔ جاں بحق ہونے والوں میں عبدالرحیم‘ مرتضیٰ‘ منیر اور ایک نامعلوم اہلکار شامل ہیں۔ ادھر ضلع سوات میں سکیورٹی فورسز کی آپریشن کا تیسرا اور تیز ترین مرحلہ بدستور جاری ہے۔ منگلور میں ایک مکان پر گولہ گرنے سے ایک خاتون اور دو بچے جبکہ فائرنگ سے علی اکبر‘ ادریس‘ سمیع اللہ سمیت 11افراد دم توڑ گئے جبکہ مٹہ کے علاقہ نظر آباد میں ایک مکان پر گولہ گرنے سے 8افراد شدید زخمی ہو گئے۔ ضلع سوات کے مختلف علاقوں کوزہ بانڈئی‘ برہ بانڈئی‘ ننگولئی‘ چھوٹا کالام‘ شکردرہ‘ منگلور‘ چارباغ‘ خوازہ خیلہ اور مٹہ کے مختلف علاقوں میں ساتویں روز کرفیو برقرار رہا اور سخت غذائی قلت پیدا ہو گئی ہے جبکہ لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی ہے۔ منگلور میں 2مساجد پر گولہ باری سے 5نمازی بھی زخمی ہو گئے۔علاوہ ازیں بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل اللہ نے کہاکہ اب ہم ایک ایسی حکمت عملی وضع کریں گے جو دنیا کے لیے ایک اچھا پیغام ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ طالبان اس لیے تعلیمی اداروں کو تباہ کررہے ہیں کیونکہ سکیورٹی فورسز انہیں مورچے کے طور پر استعمال کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہم پر بھی تو پھول نہیں برسا رہی ہے بلکہ میزائل اور بارود برساتی ہے جسکا ردعمل بھی اسی قسم کا ہوگا۔ مولانا فضل اللہ نے کہا کہ پاکستانی فوج کے سربراہ اشفاق پرویز کیانی کے دورہ سوات کے بعد سے فوجی کارروائی میں تیزی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف سوات میں فوجی کارروائی میں تیزی لانے کی بجائے سرحد پار افغانستان سے پاکستانی سرزمین پر امریکی ڈرونز حملے رکوانے کے احکامات جاری کرتے تو اس سے پاکستانی قوم اور فوج کا مورال بلند ہو جاتا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ’اسلام میں جاسوسی کی سزا گلا کاٹنا ہے، صحابہ کرام نے اس پر عمل بھی کیا میں اس معاملے پر علماء کے ساتھ مناظرے کے لیے بھی تیار ہوں۔ علاوہ ازیں شمالی وزیرستان میں تقسیم کئے گئے طالبان کے تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ تاوان کی غرض سے اغوا کئے گئے افراد اور بچے 5فروری تک اہلخانہ تک پہنچا دئیے جائیں۔ ملتان سے وقائع نگار کے مطابق وفاقی وزیر صاحبزادہ حامد سعید کاظمی نے کہاکہ مولوی فضل اللہ سے بات چیت کیلئے تیار ہیں۔ امریکہ سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔ علاوہ ازیں صدر بار سوات نے کہا ہے کہ مالاکنڈ ڈویژن میں شریعت کے نفاذ میں تاخیر نہ کی جائے۔