پاکستان دو قومی نظریہ کی بنیاد پر بنا‘ طالبان کی شریعت نافذ نہیں ہونے دیں گے : سنی ورکرز کنونشن

لاہور (خصوصی رپورٹر) آل پنجاب سنی ورکرز کنونشن نے قرار دیا ہے کہ پاکستان دو قومی نظریہ کی بنیاد پر بنا تھا لہٰذا یہاں طالبان کی شریعت نافذ نہیں ہونے دیں گے‘ اسلام‘ پاکستان‘ مساجد اور مزارات کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا۔ امریکہ اور طالبان کے خلاف جہاد کا اعلان کرتے ہیں‘ ’’گو امریکہ‘ گو طالبان تحریک‘‘ کے سلسلے میں پہلے مرحلے میں ضلعی سطح پر‘ دوسرے مرحلے میں ڈویژن سطح پر اور آخری مرحلے میں ’’گو امریکہ‘ گو طالبان‘‘ کنونشن منعقد کئے جائیں گے۔ یہ اعلانات گذشتہ روز مرکزی جماعت اہلسنت کے زیر اہتمام لیاقت چوک‘ سبزہ زار میں آل پنجاب سنی ورکرز کنونشن میں مقررین نے خطاب اور مشترکہ علامیے میں کیا۔ کنونشن میں پنجاب بھر سے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ جبکہ کنونشن کے دوران کارکنوں نے ’’اولیا کا ہے فیضان پاکستان‘ پاکستان‘ سنیوں نے پاکستان بنایا‘ سنی ہی اسے بچائیں گے‘ طالبان بھگاؤ ملک بچاؤ‘‘ کے نعرے لگائے۔ کنونشن کی صدارت مرکزی جماعت اہلسنت پاکستان کے ناظم اعلیٰ علامہ پیر سید عرفان مشہدی نے کی جبکہ مقررین میں سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حاجی فضل کریم‘ پیر عبدالخالق سجادہ نشین بھرچونڈ شریف‘ پیر سید محفوظ مشہدی‘ علامہ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی‘ ڈاکٹر آصف اشرف جلالی‘ مولانا نعیم عارف نوری‘ مولانا نواز بشیر جالی‘ صاحبزادہ ضیاء احمد مشہدی‘ مولانا صاحبزادہ ذکاء اللہ‘ پرفویسر محمد یعقوب رضوی‘ مولانا حسنین عرفانی‘ مولانا عنصر محمود انجم‘ مولانا محمد ضیاء الحق نقشبندی و دیگر نے خطاب کیا۔ کننشن میں منظور کی گئی قراردادوں میں مطالبہ کیا گیا کہ شہید ڈاکٹر سرفراز نعیمی کے قاتلوں کو بے نقاب کیا جائے۔ اسلحہ بردار لشکروں کو غیر مسلح کیا جائے‘ حکمران امریکہ نواز پالیسیاں ختم کریں‘ امریکہ عراق‘ افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلائے اور پاکستان میں ڈرون حملے بند کرے۔ ایک قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ بلوچستان کے عوام کو ان کے حقوق دئیے جائیں۔ حکومت لوڈ شیڈنگ‘ مہنگائی‘ بیروزگاری‘ قتل و غارت پر کنٹرول کرے‘ ملک میں نظام مصطفی نافذ کیا جائے۔ مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ سوات میں دہشت گردوں کی باقیات کے خاتمے تک آپریشن جاری رکھا جائے‘ ڈرون حملے بند کرانا حکومت کا فرض ہے اور حکومت معذرت خواہانہ رویہ چھوڑ کر ڈرون حملے بند کرائے یا ود ڈرون گرائے‘ ملکی سالمیت کے لئے وزیرستان میں آپریشن راہ نجارت ضروری ہے ہم اس کی حمایت اور اسے منطقی انجام تک پہنچانے کا مطالبہ کرتے ہیں‘ مشترکہ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ ہم دہشت گردوں کے نیٹ ورک کا حصہ بننے والے مدارس اور تنظیمات کے خلاف ایکشن کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اعلامیے میں توہین رسالت کا ارتکاب کرنے والے بھارتی اداکار شاہ رخ خان کو واجب القتل قرار دیا گیا اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ اہلسنت والجماعت کو منظم کرنے کے لئے بھرپور مہم شروع کی جائے گی۔ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے صاحبزادہ فضل کریم نے کہا کہ ہمیں سواتی شریعت نہیں چاہئے بلکہ نظام مصطفیؐ چاہئے۔ ڈاکٹر سرفراز نعیمی شہید کے قاتل جب تک ہمارے حوالے نہیں کئے جاتے اور انہیں انجام تک نہیں پہنچایا جاتا ہم سکون سے نہیں بیٹھیں گے۔ پیر سید عرفان مشہدی نے کہا کہ پاکستان بنانے والے اہلسنت والجماعت کے ارکان تھے جبکہ کانگریسی ملاؤں نے قائداعظمؒ پر کفر کے فتوے لگائے۔ حکومت سرفراز نعیمی کے قاتلوں کو جامعہ نعیمی میں پھانسی دے ورنہ ہم قتل کا بدلہ لیں گے۔ پیر عبدالخالق نے کہا کہ امریکہ‘ بھارت‘ اسرائیل مل کر قبائلی علاقہ جات میں نام نہاد طالبان کی ذہن سازی کر رہے ہیں‘ قوم طالبان اور امریکہ کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔ علامہ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے کہا کہ شہید والد کی روح ہمیں پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ اے میری سنی بھائیو! اٹھو امریکہ و یہیودی اور طالبان سے پاکستان کو پاک کر دو۔ ڈاکٹر اشرف آصف جلالی نے کہا کہ حکمرانوں نے جھوٹے وعدے بند نہ کئے تو ملک میں خونیں انقلاب کو آنے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ حکمرانوں نے بجلی کے بحران کو فوراً تم نہ کیا تو ملک بھر میں مظاہرے اور جلوس نکالیں گے۔ پیر سید محفوظ مشہدی نے کہا کہ مشائخ عظام و علماء کرام بہت جلد ’’اہل قلم کانفرنس‘‘ منعقد کریں گے۔ مولانا نواز شبیر جلالی نے کہا کہ برصغیر میں اسلام تلوار کے زور پر نہیں پھیلا‘ طالبان معاشرے کا ناسور ہیں اور ان کا زمین پر وجود بھی خطرے سے خالی نہیں۔ مولانا نعیم عارف نوری نے کہا کہ اسلام اور انتہا پسندی کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔