پارلیمنٹ زیادہ بچے پیدا کرنے پر ٹیکس کی پالیسی بنائے‘ نافذ کرنے کو تیار ہیں : وفاقی وزیر

اسلام آباد (لیڈی رپورٹر+ نیٹ نیوز) قومی اسمبلی میں زیادہ بچے پیدا کرنے پر ٹیکس لگانے کی تجویز پیش کی گئی ہے جبکہ وفاقی وزیر بہبود آبادی فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کا عنصر دہشت گردی کے ساتھ جڑا ہواہے۔ پارلیمنٹ زیادہ بچے پیدا کرنے پر ٹیکس عائد کرنے کے حوالے سے پالیسی بنائے‘ حکومت اسے نافذ کرنے کو تیار ہے۔ وقفہ سوالات کے دوران فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ زیادہ بچے پیدا کرنے پر ٹیکس عائد کرنا ہے تو اس کا آغاز ارکان پارلیمنٹ سے کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آبادی پر کنٹرول کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی اور اس حوالے سے وہ اپنی کوتاہی کو قبول کرتی ہیں۔ وزیر مملکت برائے امور خارجہ ملک عماد خان نے کہا ہے کہ پاکستان پانی کے اہم مسئلے پر بھارت سے مذاکرات کرے گا۔ سیاچن اور سرکریک کے مسئلہ پر پاک بھارت مذاکرات سے کشمیر تنازع حل کرنے میں مدد ملے گی۔ وزیر خوراک و زراعت نذر محمد گوندل نے کہا کہ کل قومی آمدنی میں سے 20 بلین روپے سال 2008-09ء کے دوران پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے ذریعے زرعی ترقی کیلئے مختلف کیے گئے جو پچھلے سال سے 25 فیصد زائد ہیں۔ وفاقی وزیر صحت میر اعجاز حسین جاکھرانی نے کہا 2008-09ء جولائی سے لیکر فروری تک کے دوران ایڈز کے 236 مریض رجسٹرڈ کیے گئے ہیں۔ وزیر سماجی بہبود ثمینہ خالد گھرکی نے کہا کہ ملک میں ایک لاکھ سے زائد غیرسرکاری تنظیمیں کام کررہی ہیں ان کی صحیح تعداد معلوم نہیں ان کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کا عمل جاری ہے۔ این جی اوز کی سرگرمیوں کی نگرانی وزارت کے اختیار میں نہیں آتی۔ دریں اثناء قبائلی علاقے سے منتخب رکن قومی اسمبلی کامران خان نے پیر کے روز نکتہ اعتراض پر بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر قومی اسمبلی کے اجلاس سے علامتی واک آئوٹ کیا۔ ڈپٹی سپیکر نے رولنگ دی ہے کہ منگل کو پرائیویٹ ممبرز ڈے کے علاوہ اسمبلی کے اجلاس کے دوران کسی بھی دن وقفہ سوالات لیا جاسکتا ہے۔ دریں اثناء قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ پاکستان دنیا میں ہیروئن ضبط کرنے والے ممالک میں سرفہرست ہے۔ حکومت قومی خزانہ سے امریکہ اور برطانیہ میں پاکستانی سفارت خانوں پر بھاری اخراجات کررہی ہے۔ رواں مالی سال 2008-09ء میں امریکہ میں پاکستانی سفارت خانوں کل اخراجات ایک ارب 86 کروڑ سے زائد ہیں۔ اسی طرح اس مال سال کے دوران برطانیہ میں پاکستانی سفارت خانوں کیلئے 42 کروڑ 48 لاکھ روپے سے زائد رقم مختص کی گئی تھی۔ وفاقی وزیراطلاعات و نشریات قمر الزمان کائرہ نے کہا کہ مالاکنڈ اور سوات کے کچھ علاقے کو چھوڑ کر تمام علاقہ شرپسندوں سے خالی کرا لیا گیا ہے‘ بیت المال یا کیش گرانٹ کی تقسیم میں کسی قسم کی خورد برد کے کسی کے پاس ثبوت ہیں تو وہ دیئے جائیں ان کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔ پاکستان کے وجود کے خلاف کام کرنے والوں کے خلاف پورے اخلاص سے کارروائی کی گئی ہے۔ وہ آفتاب شیرپائو کے متاثرین مالاکنڈ کے حوالے سے اٹھائے گئے نکتہ اعتراض کا جواب دے رہے تھے۔