الطاف حسین نے ان ہندو دانشوروں کی تائید کی جو اقبال کو پاکستان کی نظریاتی اساس سے نکالنا چاہتے ہیں : جاوید اقبال

لاہور (سلمان غنی) فرزند اقبال ڈاکٹر جاوید اقبال نے الطاف حسین کی جانب سے علامہ اقبالؒ کے حوالے سے بیان کو بے سروپا قرار دیا کہ اقبال نے پاکستان کا مطالبہ نہیں کیا تھا اور یہ کہ قیام پاکستان سے مسلمانوں کو نقصان ہوا۔ انہوں نے تصور پاکستان پیش کرنیوالے شخص کے حوالے سے کہا کہ وہ پاکستان نہیں چاہتے تھے‘ اسے کم عقلی ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔ دراصل الطاف حسین نے ان ہندو دانشوروں کی تائید کی ہے جو پاکستان کی نظریاتی اساس سے اقبال کو نکالنا چاہتے ہیں تاکہ نظریاتی اساس نہ ہونے سے پاکستان کی عمارت دھڑام سے نیچے گر جائے۔ یہ دراصل ہندوانہ نکتہ نگاہ ہے جسے الطاف حسین آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ وہ گزشتہ روز ایم کیو ایم کے رہنماء الطاف حسین کی جانب سے آنیوالے نکتہ نظر پر تبصرہ کررہے تھے۔ انہوں نے ان کے بیان کو سیاسی بیان قرار دیتے ہوئے کہا کہ یوں تو جو نظریہ سامنے آتا ہے وہ ایک ہی وقت میں فنش شکل میں نہیں ہوتا‘ اسکی تکمیل ہوتی رہتی ہے۔ یہ اقبال کے جس بیان کی بات کررہے ہیں یہ ابتدائی دور تھا۔ انہوں نے اقبال کی بعد کی تقاریر اور تحریریں نہیں دیکھیں۔ انہوں نے اقبال کے جناح کے نام خطوط نہیں پڑھے جو ہندوانہ طرزعمل مسلمانوں کیخلاف ان کے ردعمل کے حوالہ سے تھے۔ یہ سارا دور تکمیل کے مراحل کا دور تھا اور ہندوئوں کی تاریخ بتا رہی ہے کہ انہوں نے اقبال کو ٹارگٹ اس لئے کیا کہ انہیں پتہ تھا کہ یہی شخص ہے جس کی فکر پاکستان کی بنیاد بنی‘ اسے باہر نکالا جائیگا تو یہ عمارت قائم نہیں رہ سکے گی اور اب الطاف حسین اسی پر کاربند نظر آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اقبال نے مسلم صوبوں کیلئے صوبائی خودمختاری کی بات کی تھی تو یہ کیبنٹ مشن پلان میں دہرایا گیا تھا جسے قائداعظمؒ نے تسلیم کرلیا تھا اور خود ہندوئوں نے مسترد کردیا تھا اور پنڈت جواہر لعل نہرو کے بیانات اس پر گواہ ہیں۔ اس کا مطلب واضح ہے کہ اس وقت مسلمانوں خصوصاً قائداعظمؒ مسائل کا حل چاہتے تھے لیکن دس سال بعد صورتحال تبدیل ہوگئی۔ مذکورہ تجویز کے تحت فوج خارجہ پالیسی اور مواصلات مرکز کے پاس ہونے تھے اور صوبوں کو دیگر شعبہ جات میں خودمختاری ملنا تھی اور پنڈت جواہر لعل نہرو کی جانب سے انہیں مسترد کرنے پر ابوالکلام آزاد نے اپنی تحریروں کے ذریعے ان کی بازپرس کیاور کہا کہ یہ تجویز قبول نہ کرکے ہندوئوں نے ہندوستان کو متحد رکھنے کا چانس گنوا دیا لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہندوستان کی تقسیم ہندوئوں اور ہندو قیادت نے کیبنٹ مشن پلان کی اس تجویز کو مسترد کرکے بنایا اور دوسری جانب مسلمان اور مسلم قیادت مسائل کا سیاسی حل پیش کرکے صلح و آشتی کا پیغام دے رہی تھی جو انہوں نے قبول نہ کی۔ ڈاکٹر جاوید اقبال نے صوبوں کی تقسیم کے حوالے سے الطاف حسین کے موقف کو بھی بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کہ آج پنجاب کی تقسیم کی باتیں بھی وہ عناصر کررہے ہیں جن کی یہاں کوئی سیاسی پذیرائی نہیں اور انہیں مستقبل میں یہاں مقبولیت کے حصول کے امکانات بھی نظر نہیں آرہے۔ ماضی کے اندر بنگال کی علیحدگی کیلئے سرگرم عمل ذہنیت ایک مرتبہ پھر سرگرم عمل ہے لہٰذا پنجاب کی تقسیم کیلئے ایسے عناصر کے انداز فکر کی پذیرائی نہیں ہون یچاہئے۔ جہاں تک اہل پنجاب کا تعلق ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ پنجابی پنجابی ہونے کے باوجود پنجابی نہیں بولتے بلکہ یہاں کراچی سے زیادہ اردو بولی جاتی ہے اور یہ ہماری قومی زبان ہے اور لسانی بنیادوں پر سیاست اور تقسیم یا کسی اور عمل کی پذیرائی نہیں ہونی چاہئے۔ ڈاکٹر جاوید اقبال نے مزید کہا کہ یہ کہنا کہ تقسیم برصغیر سے مسلمانوں کو نقصان ہوا۔ یہ حقیقت پسندانہ طرزعمل نہیں۔ اگر تقسیم عمل میں نہ آتی تو آج اس خطہ کے مسلمانوں کا کیا حال ہوتا؟ ان کیلئے ترقی کے کیا وہ مواقع ہوتے۔ پھر یہی ہونا تھا جو آج کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ ان پر جو ظلم و ستم کی تاریخ مرتب کی جا رہی ہے اس کیلئے کون جوابدہ ہوتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہم خوش قسمت ہیں کہ ایک آزاد مملکت میں رہ رہے ہیں اور ہندو جیسی اکثریت ہم پر مسلط نہیں۔