ڈی آئی خان : یوم عاشور پر بھی جلوس کے قریب بم دھماکہ مزید سات جاں بحق‘ 80 زخمی


ڈیرہ اسماعیل خان + پشاور (نیوز ایجنسیاں + نوائے وقت نیوز) ڈیرہ اسماعیل خان میں یوم عاشور پر مسلسل دوسرے روز ماتمی جلوس کے قریب ایک بند دکان میں رکھے گئے ریموٹ کنٹرول بم کے دھماکے سے مزید سات افراد جاںبحق جبکہ 80 سے زائد زخمی ہو گئے۔ دو روز کے دوران ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں مجموعی طور پر 16 افراد جاںبحق اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے۔ تحریک طالبان نے بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی۔ صدر زرداری‘ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف‘ وزیر داخلہ رحمن ملک‘ صوبائی وزیر اعلیٰ امیر حیدر ہوتی‘ ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی فضل کریم کنڈی‘ مولانا فضل الرحمن، نوازشریف، وزیر اعلیٰ شہباز شریف، الطاف حسین سمیت دیگر رہنماﺅں نے دہشت گردی کے اس واقعہ کی شدید مذمت کی ہے۔ رحمن ملک نے ڈی آئی خان میں ہونےوالی اس دہشت گردی پر آئی جی پولیس اور دیگر حکام سے رپورٹ طلب کر لی۔ تفصیلات کے مطابق یوم عاشور پر کمشنری بازار میں سائیکل پنکچر کی دکان میں نصب بم کے پھٹنے سے اس وقت دھماکہ ہوا جب قریبی علاقہ سے تعزیتی جلوس کوٹلی امام حسینؓ کی طرف جا رہا تھا۔ دھماکہ کے نتیجہ میں 7 افراد جاںبحق اور 80 کے قریب زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو فوری طبی امداد کیلئے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال ڈی آئی خان لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں اور طبی عملے کی کمی کے باعث مشکلات پیش آئیں۔ بعدازاں 25 زخمیوں کو ملتان اور پشاور منتقل کیا گیا۔ سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ جاںبحق اور زخمی ہونے والے افراد میں بچے اور ایف سی کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ دھماکہ میں 8 سے 10 کلوگرام بارودی مواد کا استعمال کیا گیا تھا۔ واضح رہے ایک روز قبل بھی ڈی آئی خان میں کچرے کے ڈھیر میں چھپائے گئے بم کے پھٹنے سے 9 افراد جاںبحق ہو گئے تھے۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں 9 اور 10 محرم الحرام کے جلوسوں میں دہشت گردی کے واقعات پر گذشتہ روز بھی فضا سوگوار ہے۔ تمام تعلیمی ادارے، بازار اور کاروباری مراکز بند رہے۔ شہر میں سوگ کا عالم تھا، ٹریفک بھی معمول سے کم ہے، دھماکے کی جگہ کو پولیس نے قناتیں لگا کر بند کیا ہوا ہے۔ تحریک طالبان کے ترجمان نے فون پر بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ بم دھماکے کے خلاف سولہ امام بارگاہوں کے جلوس میں شامل عزاداروں نے امامیہ گیٹ پر دھرنا دیا اور احتجاجاً تعزیے زمین پر رکھ کر حکومت سے مطالبات تسلیم ہونے تک آگے نہ جانے کا فیصلہ کیا۔ عزاداروں کی طرف سے چار مطالبات پیش کئے گئے جس میں ڈی ایس پی سٹی عبدالغفور کی معطلی، جانی نقصان اور زخمیوں کے لئے معاوضہ، شہر میں تین روز تک سوگ منانے اور دھماکے کے ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کے مطالبات شامل تھے۔ حکومت خیبر پی کے نے جاںبحق افراد کے لئے تین تین لاکھ جبکہ زخمیوں کے لئے ایک ایک لاکھ روپے کی امداد کا اعلان کر دیا ہے۔