پاسکو: گندم خریداری کا ہدف سیاسی بنیادوں پر مقرر کرنے سے قرضے 102 ارب روپے ہو گئے


لاہور (ندیم بسرا) پاسکو کیلئے گندم خریداری کا ہدف ادارے کی صلاحیت اور مینڈیٹ کی بجائے سیاسی بنیادوں پر مقرر ہونے سے قرضوں کا مجموعی حجم 102ارب روپے تک پہنچ گیا ہے جس پر 6ارب 38کروڑ روپے سود کی مد میں واجب الادا ہیں۔ صوبوں اور وفاقی اداروں کے ذمہ پاسکو کے 26ارب روپے کے بقایا جات ہیں۔اس صور تحال کے بعد پاسکو نے قرضوں کا حجم کم کرنے کیلئے وفاقی حکومت سے گندم خریداری کے ہدف میں کمی کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔گندم کے نیشنل سٹریٹجک ریزرو میں پنجاب کا شیئر ختم کرکے تمام سٹاک پاسکو کے کنٹرول میں دینے کی تجویز دی گئی ہے گندم کا سٹریٹجک ریزرو پاسکو کے سپرد کرنے سے سالانہ 2ارب روپے کی بچت ہوگی اس حوالے سے پاسکو نے ادارے کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے سفارشات وزیر اعظم کو پیش کر دی ہیں۔ سفارشات میں کہا گیا ہے کہ مینڈیٹ کے مطابق پاسکو کیلئے گندم خریداری کا ہدف 10سے 12لاکھ میٹرک ٹن ہو نا چاہیے جو پاک فوج، گلگت بلتستان، نیشنل سٹریٹجک ریزرو، ورلڈ فوڈ پروگرام اور سارک فوڈ بنک کی ضروریات پوری کرنے کیلئے کافی ہے پاسکو کے پاس گندم کے ذخائر کا حجم 22لاکھ89ہزار میٹرک ٹن تک پہنچ گیا ہے ادارے کے پاس گوداموں میں گندم ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 4لاکھ31ہزار میٹرک ٹن ہے بقیہ 17لاکھ50ہزار میٹرک ٹن گندم کھلے مقامات پر گنجیوں میں محفوظ کی گئی ہے جس کی دیکھ بھال پر اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ اس لئے گندم کا خریداری ہدف سیاسی یا دیگر مقاصد کی بجائے حقیقی ضروریات کے مطابق مقرر کیا جائے۔ گندم کی مقامی مارکیٹ میں فروخت اور ایکسپورٹ کیلئے پاسکو کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے پاس کوئی اختیارات نہیں ہیں اس کیلئے وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ سے اجازت لینا پڑتی ہے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو اختیارات دئیے جائیں۔