لاہور سے نوازشریف، شہباز، حمزہ اور مریم نواز کے الیکشن لڑنے کا امکان


لاہور (فرخ سعید خواجہ) جوں جوں عام انتخابات قریب آتے جا رہے ہیں، ملک کے اہم سیاسی خاندانوں کے مختلف حلقوں سے الیکشن لڑنے کے بارے میں قیاس آرائیاں بڑھتی جا رہی ہیں، بالخصوص لاہور سے ملک کے اہم سیاسی خاندان شریف فیملی کے حوالے سے آئے روز خبریں سامنے آرہی ہیں تاہم ابھی تک شریف فیملی نے اس بات کا فیصلہ نہیں کیا کہ انکے خاندان کے کتنے افراد کس کس حلقے سے الیکشن لڑینگے۔ اس وقت شریف فیملی میں سے حمزہ شہبازشریف رکن قومی اسمبلی اور انکے والد شہبازشریف رکن پنجاب اسمبلی اور وزیراعلیٰ پنجاب ہیں۔ ماضی میں شریف فیملی کے میاں محمد نوازشریف اور میاں عباس شریف بھی رکن قومی اسمبلی رہ چکے ہیں۔ عباس شریف نے قومی اسمبلی کی رکنیت کا بھاری پتھر چوم کر رکھ دیا ہے اور اب کاروبار کے علاوہ اللہ اللہ کرتے ہیں۔ پچھلے دنوں میاں نوازشریف کی صاحبزادی مریم نوازشریف نے ارادہ ظاہر کیا کہ وہ قومی اسمبلی کی جنرل نشست پر الیکشن لڑیں گی۔ مسلم لیگ (ن) لاہور کے ذرائع کے مطابق انہوں نے لاہور سے متوقع امیدواروں کی جو فہرست بھجوائی ہے اس میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 119، این اے 120 اور این اے 123 کو خالی رکھا گیا ہے۔ ان تینوں حلقوں سمیت لاہور کے کسی اور حلقے سے بھی شریف فیملی کے چاروں افراد نوازشریف، شہبازشریف، حمزہ شہباز اور مریم نوازشریف الیکشن لڑ سکیں گے۔ لاہور سے ٹکٹوں کا فیصلہ کرنے کیلئے میاں نوازشریف نے اسحاق ڈار کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی قائم کررکھی ہے جس میں سنیٹر پرویز رشید اور پرویز ملک ایم این اے صدر لاہور مسلم لیگ (ن) شامل ہیں۔ اس تین رکنی کمیٹی نے تاحال اپنی فہرستیں مکمل کرکے قیادت کو فراہم نہیں کیں تاہم افواہیں گردش کررہی ہیں کہ اس مرتبہ بہت سے ممبران قومی و صوبائی اسمبلی کو تبدیل کردیا جائیگا اور انکی جگہ نئے امیدوار میدان میں لائے جائینگے۔ ان افواہوں کو شریف فیملی کے قریبی ذرائع کی ان باتوں سے تقویت ملی کہ اس مرتبہ لگ بھگ 40 فیصد امیدوار نئے ہوں گے۔ جہاں تک موجودہ ممبران قومی اسمبلی کا تعلق ہے ان میں سے این اے 118 ملک ریاض، این اے 119 حمزہ شہباز، این اے 120 بلال یٰسین، این اے 121 میاں مرغوب، این اے 122 سردار ایاز صادق، این اے 123 پرویز ملک، این اے 124 شیخ روحیل اصغر، این اے 125 خواجہ سعد رفیق، این اے 126 عمر سہیل ضیاءبٹ، این اے 127 نصیر بھٹہ ایڈووکیٹ، این اے 128 ملک افضل کھوکھر کی پارلیمنٹ اور سیاست میں کارکردگی خاصی اچھی رہی ہے بظاہر انکو تبدیل کئے جانے کی ماسوائے اسکے کے کوئی وجہ نہیں کہ پارٹی کے بڑے اور سابق ممبران اسمبلی میں سے بہتر امیدواروں کو انکی جگہ لایا جائے تاکہ سو فیصد اچھا انتخابی نتیجہ نکل سکے۔



دیگر خبریں

پرنٹ لائن

پرنٹ لائن

15 دسمبر 2017
پرنٹ لائن

پرنٹ لائن

14 دسمبر 2017
پرنٹ لائن

پرنٹ لائن

13 دسمبر 2017
پرنٹ لائن

پرنٹ لائن

12 دسمبر 2017