سانحہ سیالکوٹ : تحقیقاتی ٹیم سے شواہد اکٹھے کرلئے‘ سرچ آپریشن‘ باقاعدہ گرفتاریاں آج شروع ہوں گی

سیالکوٹ (نامہ نگار) پولیس کی موجودگی میں دیہاتیوں کے ہاتھوں وحشیانہ تشدد سے 2بھائیوں کی ہلاکت کے مقدمہ کی تفتیش کےلئے پنجاب حکومت کی مقررکردہ تحقیقاتی ٹیم نے سانحہ کے تمام شواہد اکٹھے کر لئے ہےں اور ملزمان کی باقاعدہ گرفتاریاں آج 27اگست سے شروع کر دی جائینگی، 2بھائیوں کی ہلاکت کے مرکزی ملزمان علی پیٹر اور شمس کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے جبکہ مقدمہ مےں ملوث دیگر ملزمان اور عینی شاہدین کےخلاف بھی کریک ڈاﺅن جاری ہے اور مزید 9افراد کو حراست مےں لے لیا گیا ہے جس کے بعد مقدمہ کے نامزد 15ملزموں کی علاوہ اب تک گرفتار ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 89ہوگئی ہے جبکہ مقتول بھائیوں کی مبینہ فائرنگ سے زخمی ہونے والا موضع بٹر کا 10سالہ ذیشان لاہور کے ہسپتال مےں زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ گیا ہے۔ پولیس کے موضع بٹر اور دیگر دیہاتوں مےں سرچ آپریشن کے دوران واقعہ کے عینی شاہدین کو بڑے پیمانے پر حراست مےں لیے جانے کے بعد موضع بٹر کے درجنوں گھروں کو تالے لگا کر لوگ غائب ہوگئے ہےں اور اب صرف گاﺅں مےں خواتین، بچے اور معمر افراد ہی موجود ہےں۔ ڈی پی او آفس سیالکوٹ میں سپیشل انویسٹی گےشن ٹےم کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی ڈی آئی جی مشتاق احمد سکھےرا نے نوائے وقت سے بات چیت کے دوران کہا کہ ملزمان کی گرفتارےوں کیلئے جن شواہد کی ضرورت تھی وہ آج تک مکمل کرلئے جائیں گے۔ قانون و انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے تفتےش کی جارہی ہے اور کسی قصور وار سے کوئی رعاےت نہیں ہو گی۔ ایک سوال کے جواب میں ڈی آئی جی مشتاق سکھےرا نے کہا کہ دونوں بھائیوں مغےث اورمنیب کی دیہاتےوںکے ہاتھوں ہلاکت کے واقعہ سے قبل موضع بٹر کے قتل ہونے والے دو افراد بلال اور ذیشان کے مقدمہ کی تفتےش سیالکوٹ کی مقامی پولیس کررہی ہے۔ پولیس کے مطابق دو ملزمان کے بیرون ملک فرار ہونے کی اطلاعات ہیں، جلد ہی دیگر دوملزمان دلاوراور محمود کو بھی گرفتار کرلیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف کے حکم پر دہشت گردی اور قتل کے اس مقدمہ کی تحقےقات کیلئے تشکیل دی گئی سپیشل انویسٹی گےشن ٹےم نے رات گئے تک گرفتار ملزمان سے تفتےش جاری رکھی جبکہ شواہد اکٹھے کرنے کاکام بھی جاری ہے۔ رات گئے تک جاری رہنے والے پولیس افسران کے ایک اجلاس میں وقوعہ کے عینی شاہدین کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں شامل تفتےش کرنے کا فےصلہ کیا گےا اور اس سلسلہ میں ہدایات جاری کی گئیں جس کے بعد پولیس کی مختلف ٹےموں نے موضع بٹر ، میانی اور پکی کوٹلی میں سرچ آپریشن کے دوران مزید چار افراد کو حراست میں لے لیا اور حراست میںلئے جانے والے افراد کو مختلف تھانوں میں منتقل کردیا گےا۔ پولیس نے دونوں بھائیوں مغیث بٹ اور منیب بٹ کے وحشےانہ تشد د سے ہلاکت کے مقدمہ میں نامزد 17 ملزمان میںسے پندرہ ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ دو ملزمان دلاور اور محمود تاحال مفرور ہیں۔ قبل ازیں پولیس کی مختلف تفتےشی ٹےموں نے موضع بٹر میں جائے وقوعہ کا تفصےلی معائنہ کیااور کرکٹ گراﺅنڈ کے حوالے سے بھی تفصےلات حاصل کیں تاہم موضع بٹر میں کوئی کرکٹ گراﺅنڈ نہ ملی بلکہ ایک پرائیویٹ پلاٹ میں کرکٹ کی پچ موجو دہے جس میں گڑھے پڑے ہوئے ہیں جبکہ گراﺅنڈ میں ایک ایک فٹ گھاس اگی ہوئی ہے۔گذشتہ روز نواحی موضع بٹرکے سروے کے دوران مقتول بلال کے والد شوکت علی اور والدہ صفیہ بی بی نے بتایا کہ وہ اور اس کے بیٹے زمینداری کرتے ہیں اور چند مویشی رکھے ہوئے ہیں اور دودھ فروخت کرتے ہیں۔ بلال ڈاکووں کے ہاتھوں قتل ہوا جبکہ فائرنگ سے زخمی ہونے والے جاوید اور عمران کو بھی پولیس اٹھا کر لے گئی ہے جبکہ وہ بے قصور ہے۔ انہوں نے مغیث اور منیب کے وحشیانہ انداز میں مارے جانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا بیٹا قتل ہوا کسی نے آ کر افسوس نہیں کیا بلکہ الٹا انہیں ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے۔ این این آئی کے مطابق ڈی آئی جی مبشر نے کہا ہے کہ سیالکوٹ میں دو بھائیوں کے قتل میں ریسکیو 1122 کا عملہ ملوث ہے‘ چند روز میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کر دی جائے گی۔ حافظ مغیث اور منیب کو ریسکیو 1122 کے حوالے کیا گیا تو چھوٹا بھائی منیب زخمی تھا۔ اس کو ریسکیو کے عملے نے طبی امداد نہیں دی۔آن لائن کے مطابق سانحہ سیالکوٹ کے حوالے سے جوڈیشل انکوائری رپورٹ جسٹس ریٹائرڈ کاظم ملک سوموار کے روز پیش سپریم کورٹ میں پیش کرینگے اس حوالے سے جسٹس ریٹائرڈ کاظم ملک نے میڈیا کو بتایا کہ انشاءاللہ رپورٹ میں انصاف نظر آئے گا سپریم کورٹ نے مجھے پر اعتماد کا اظہار کیا ہے کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی۔