بنگلہ دیشی عوام کی اکثریت پاکستان سے دوستی چاہتی ہے‘ دونوں ملکوں میں ویزا سسٹم ختم کیا جائے : خواجہ امجد سعید

لاہور (خواجہ فرخ سعید) معروف ماہر اقتصادیات اور ہیلی کالج آف بنکنگ اینڈ فنانس کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر خواجہ امجد سعید نے کہا ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ویزا سسٹم فی الفور ختم کر دیا جائے۔ پاکستان حکومت بنگلہ دیش کے بچوں کو وظائف دے کر بڑی مقدار میں پاکستان کی تمام جامعات میں داخلہ دیا جائے۔ بنگلہ دیش کی جن اشیاءکی پاکستان میں ضرورت ہے پاکستان فی الفور انہیں بنگلہ دیش سے درآمد کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دورہ بنگلہ دیش کے بعد نوائے وقت کو خصوصی انٹرویو میں کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر خواجہ امجد سعید نے کہا کہ بنگلہ دیش میں لوگوں کی اکثریت بھارت کی بجائے پاکستان سے بہتر تعلقات اور دوستی کی خواہاں ہے۔ تاہم پاکستان دشمن قوتیں بالخصوص بھارت کوشش کر رہا ہے کہ بنگلہ دیش کے آئین کو تبدیل کروا کر اسے سیکولر ملک بنا دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کے عوام نہیں چاہتے کہ بنگلہ دیش کا سیکولر تشخص بنے اسلئے وہ ایسی آئینی اصلاحات کے سخت مخالف ہیں جن کے تحت بنگلہ دیش کو سیکولر ملک میں تبدیل کر دیا جائے۔ بنگلہ دیش کے عوام کی جانب سے یہ مطالبہ زبان زدعام ہے کہ اس معاملے پر ریفرنڈم کروایا جائے کہ ملک کا تشخص سیکولر نہیں ہونا چاہئے۔ خواجہ امجد سعید نے کہا کہ بھارت نے بنگلہ دیش میں پاﺅں پھیلانے کےلئے بنگلہ دیش کو 30 سال کی مدد کےلئے محض 0.75 فیصد شرح سود پر قرضہ دیا ہے۔ پاکستان اوربنگلہ دیش کا موازنہ کرتے ہوئے خواجہ امجد سعید نے کہا کہ بنگلہ دیش کی معیشت پاکستان کی نسبت زیادہ مضبوط ہے۔ بنگلہ دیش کی کامیابی کا راز ان کی گارمنٹس انڈسٹری ہے ان کے فارن ایکسچینج کا 64 فیصد گارمنٹس انڈسٹری سے حاصل ہوتا ہے۔ بنگلہ دیش امریکہ کو برآمد کرنے والے ملکوں میں 5واں بڑا ملک اور کینیڈا میں برآمد کندگان کی فہرست میں 9 واں ملک ہے۔ بنگلہ دیش کا گروتھ ریٹ 5 سے 6فیصد ہے جبکہ پاکستان کا گروتھ ریٹ کا ہدف 4 فیصد مقرر کیا گیا لیکن حقیقتاً اس وقت ہمارا گروتھ ریٹ محض ڈیڑھ فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں 1993ءمیں ڈھاکہ، چٹاگانگ میں پراسیسنگ زون قائم کئے گئے جہاں پاکستان کے صنعتکاروں نے بھی ٹیکسٹائل اور فوڈ کی صنعتیں لگائی ہیں۔ اسے ہماری بدقسمتی کہنا چاہئے کہ پاکستان میں بنائے جانے والے پراسیسنگ زون اسلئے کامیاب نہ ہو سکے کہ ان پر بیوروکریسی کو لگایا گیا جن کی وجہ سے پراسیسنگ زون ناکام ہو گئے۔ انہوں نے بتایا کہ بنگلہ دیش میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی لاگو نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بلاشبہ ایک عظیم ملک ہے لیکن ہم بنگلہ دیش کی گارمنٹس انڈسٹری کو اپنےلئے رول ماڈل بنا سکتے ہیں۔ ہم بنگلہ دیش کی ہاﺅسنگ پالیسی سے بھی سبق سیکھ سکتے ہیں۔ وہاں صرف2 ہزار ٹکا میں مکان بنا لیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ 72 ٹکا کا ایک امریکی ڈالر ہے جبکہ ایک ڈالر 80 پاکستانی روپوں کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں این جی اوز بھی ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ بنگلہ دیش کی ایک این جی او براک نے تعلیم اور صحت کے شعبے میں جو کام کئے ہیں ہمارے ملک میں اس کی ٹکر کی ایک این جی اوز بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں حب الوطنی کا جو جذبہ موجود ہے وہ ان کی نسبت ہمارے لوگوں میں بہت کم ہے۔ بنگلہ دیش اور پاکستان میں ایک فرق یہ ہے کہ وہاں کے لو گ ہمارے مقابلے میں قناعت پسند ہیں انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش نے غربت کے خاتمہ کا مقصد اپنایا ہے اور ان کے بین الاقوامی شہرت یافتہ معیشت دان ڈاکٹر محمد یونس نے ایسا بنکنگ سسٹم متعارف کرایا ہے جس میں لوگوں کو بغیر سکیورٹی کے قرضے دیئے جا رہے ہیں۔ بنگلہ دیش کا لٹریسی ریٹ 61.3 اور پاکستان کا نام نہاد لٹریسی ریٹ52 فیصد ہے۔ وہاں زرعی قرضہ بہت زیادہ دیا جاتا ہے جبکہ پاکستان میں دیئے جانے والے قرضوں کا صرف7 فیصد زراعت کو قرضہ ملتا ہے۔ بنگلہ دیش میں شرح پیدائش پاکستان کے مقابلہ میں کم ہے۔ بنگلہ دیش میں شرح پیدائش1.54 فیصد اور پاکستان میں 2.50 فیصد ہے۔ ہمارے بجٹ کا34 فیصد حکومت چلانے کیلئے رکھا جاتا ہے جبکہ بنگلہ دیش میں اس کے مقابلے میں بہت ہی کم رقم حکومت چلانے کےلئے رکھی جاتی ہے۔ بنگلہ دیش کی وزارت خزانہ نے مستقل کمیٹی قائم کر رکھی ہے جو حکومت کے اخراجات کم کرنے کی تجاویز مرتب کر کے ان پر عمل کرواتی ہے جبکہ ہمارے یہاں ایسا کوئی نظام نہیں ہے۔