آمریت کا بیٹا آمریت کا فروغ چاہتا ہے عزائم پورے نہیں ہوں گے : راجہ ریاض

لاہور (سلمان غنی) پنجاب میں پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر اور سینئر وزیر راجہ ریاض نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو آمریت کا بیٹا اور کرپشن کنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ 30 سال سے ہر حکومت میں بن بلائے مہمان کا کردار ادا کرنیوالے جمہوری لبادہ اوڑھ کر آمریت کی بات اس لئے کررہے ہیں کہ یہ خود آمریت کی پیداوار ہیں لیکن پاکستان میں جمہوری عمل اور جمہوری سسٹم کے حوالہ سے ان کے آمرانہ عزائم پورے نہیں ہوں گے۔ پاکستان میں کرپشن کے خاتمہ کی بات کرنیوالے ایم کیو ایم کے قائد کرپشن اور بھتہ فورس کے موجد ہیں جس کی دنیا گواہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑے ڈیمز ہی پاکستان کی بقاءو سلامتی اور معاشی انقلاب کیلئے لازم ہیں۔ حکومت اس حوالے سے سنجیدہ پیشرفت کریگی۔ بدقسمتی سے حالیہ سیلاب کے باعث ہم نے اپنے ہاتھ سے کھربوں ڈالر سونے جیسا پانی سمندر کی نذر کردیا۔ اس پانی سے ہماری نہریں 5 ماہ نہیں 5 سال تک چل سکتی تھیں۔ پاکستان میں کالا باغ ڈیم سمیت بڑے ڈیمز کی تعمیر میں بڑی رکاوٹ بھارتی لابی اور وہ عناصر ہیں جو پاکستان کو پھلتا پھولتا ترقی کرتا نہیں دیکھنا چاہتے۔ پانی کے بہاﺅ سے نمٹنے کیلئے بند توڑنے کا اختیار تکنیکی ماہرین کو ہے مگر اس بار سیاسی لوگوں نے اپنی من مرضی کی، مقصد انسانی جانیں بچانا ہوتا تو اور ہلاکتیں کم ہوسکتی تھیں۔ دریائے جہلم سے بند نہیں توڑنے پڑے البتہ دریائے سندھ پر ایسا کرنا پڑا۔ محکمہ موسمیات نے سیلاب کے خطرات پر مس گائیڈ کیا۔ ہر دس گھنٹے بعد موقف تبدیل ہوتا رہا جس پر وزیراعظم نے کہا کہ اسکی تحقیقات کرائی جائے اور ذمہ داران کا تعین ہونا چاہئے۔ بدقسمتی سے پنجاب میں سیلاب سے نمٹنے میں شہبازشریف نے ہمیں ساتھ نہیں لیا۔ انکے ساتھ میں ہیلی کاپٹر میں ہوتا تو صورتحال اور نتائج اور ہوتے۔ کمیشن کی تشکیل پر صوبوں کا اعتراض تھا، خود ہماری کابینہ میں بھی تحفظات تھے۔ ہمیں کہا جاتا ہے کہ علیحدہ ہوجائیں، جس دن ہم علیحدہ ہوئے شہبازشریف پنجاب میں عزت سے حکومت نہیں کرسکیں گے۔ ان کی حکومت لوٹوں کے رحم و کرم پر ہوگی۔ وہ وقت نیوز کے پروگرام ”اگلا قدم“ میں سوالات کے جوابات دے رہے تھے۔ پروگرام کے پروڈیوسر میاں شاہد ندیم، اسسٹنٹ پروڈیوسر وقار قریشی تھے۔ راجہ ریاض نے کہا کہ پنجاب میں انتظامات کے باوجود سیلاب اتنا بڑا تھا کہ انتظامات دھرے کے دھرے رہ گئے۔ کچھ جگہوں پر بند توڑنے پڑے۔ حکومتوں نے اپنے وسائل کے مطابق ممکنہ حد تک سیلاب کے سدباب کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب پہلے بھی آتے تھے اور ایک دو دن بعد پانی اتر جاتا تھا۔ پہلی مرتبہ یہ سلسلہ سنگین تھا جو دس پندرہ دن جاری رہا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری زراعت کو بڑا نقصان ہوا۔ ساڑھے چھ لاکھ گنے، 3 لاکھ ایکڑ روئی، ڈیڑھ لاکھ ایکڑ چاول کی فصل متاثر ہوئی۔ ابھی بھی نقصان کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ پانی واپس جانے کے بعد پتہ چلے گا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کا اعلان ہے کہ کاشتکار کو بیج بھی دینگے، قرضے بھی دینگے اور کھاد بھی فراہم کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ سیلابی صورتحال سے صرف حکومتیں نہیں نمٹ سکتی تھیں، عوام نے بھی اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ این جی اوز بھی متحرک رہیں۔ انہوں نے پنجاب کے حالات پر ایک سوال پر کہا کہ اچھا ہوتا شہبازشریف ہمیں ساتھ لیکر چلتے۔ میں بھی ہیلی کاپٹر میں انکے ساتھ ہوتا تو جذبہ، نتائج اور تصویر اور ہوتی لیکن نہ جانے ہمیں کیوں نظرانداز کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارتیں ہمارے لئے اہم نہیں البتہ قیادت کا حکم اہم ہے ورنہ ہمیں معلوم ہے کہ ہماری یہاں کیا حیثیت ہے البتہ ایک بات وزیراعلیٰ کو بتا دوں کہ ہم تو ان سے زیادہ توقع بھی نہیں رکھتے۔ اتنا سرخی پوڈر چاہتے ہیں کہ حلقوں کے عوام کو اچھا چہرہ دکھا سکیں۔ ہمارا گزارا ہوسکے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ عزت سے پرامن انداز میں حکومت چلائیں۔ ہم نہ ہوئے تو لوٹوں کے رحم و کرم پر ہوں گے۔ ہم نہ ہوں گے تو اعتماد کا ووٹ بھی نہ لے سکیں گے۔ اس سوال پر کہ مسلم لیگ (ن) کا کہنا ہے کہ ہماری جان چھوڑیں، راجہ ریا ضنے کہا کہ یہ مشیروں کے الفاظ ہیں، جس دن شہبازشریف کہیں گے تو پھر دیکھا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ پاور شیئرنگ فارمولا تو اب مسلم لیگ (ن) والے تسلیم نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ یہ تب تھا جب ہم وفاقی حکومت میں تھے، اب اسکا وجود نہیں۔ ہمارے اراکین سے زیادتی ہوئی کہ نہ ہمیں مارکیٹ کمیٹیاں دیں نہ زکوٰة کمیٹیاں اور یہ نوکریوں میں حصہ بھی اپنے اراکین کو دیتے ہیں یا وزیراعلیٰ اور پنجاب حکومت کو، انہوں نے کہا کہ پنجاب میں مشاورتی عمل کہیں نہیں۔ وزیراعلیٰ حکومت وزراءکے ذریعے نہیں بیوروکریسی کے ذریعے چلاتے ہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پر ملز بچانے کیلئے بند توڑنے کے الزام کے حوالے سے کہا کہ اگر ثابت نہ کرسکا تو قوم سے معافی مانگ لونگا۔ میں پریس کو دعوت دیتا ہوں کہ میرے ساتھ چلے، ثابت کردونگا۔ انہوں نے سانحہ سیالکوٹ کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ دو بچوں کے گھر تو چلے گئے، انہیں وہاں بھی جانا چاہئے تھا جو بیچارا ناحق مارا گیا۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ وزارتیں ہماری کمزوری نہیں، قیادت کا فیصلہ ہے نبھا رہے ہیں۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ ایک مرتبہ نہیں وزیراعلیٰ نے کئی مرتبہ وعدہ خلافی کی۔ انہوں نے الطاف حسین کے حوالے سے کہا ہ جو شخص پاکستان کا نہیں برطانوی شہری ہے اسے کس طرح حق ہے کہ وہ پاکستان کے فیصلے کرے۔ یہ فیصلے پاکستان کی عوام نے کرنا ہیں۔ آمریت کا بیٹا آمریت کا فروغ چاہتا ہے۔ کرپشن کی بات کرنیوالا پاکستان کا سب سے بڑا کرپشن کنگ ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ بھتہ خوری کا موجد کون ہے۔ ہم نے جو کچھ کیا، جس کو ساتھ لیا، مفاہمت کے جذبہ کے تحت کیا۔ انہوں نے کہا کہ آمریت کسی ملک کو آگے نہیں لے جاتی۔ انہوں نے ٹی وی پروگرام میں ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا کہ سندھی، بلوچی اور پٹھان بھائیو، میں کہتا ہوں کہ یہ ڈیمز پاکستان کی زندگی میں بن گئے تو کشکول ٹوٹ جائیگا۔ ہمیں بھیک نہیں مانگنی پڑیگی۔ پانی و بجلی کا بحران ہمیشہ کیلئے حل ہوجائیگا۔ ہماری فصلیں پانی کو نہیں ترسیں گی۔ ڈیمز بن گئے تو مہنگائی اور بیروزگاری کی جڑیں اکھاڑی جاسکیں گی۔