صدر زرداری کی وجہ سے ملک میں کرپشن بڑھ رہی ہے : لیاقت بلوچ

لاہور (خصوصی نامہ نگار) جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ صدرزرداری کی وجہ سے ملک میں کرپشن بڑھ رہی ہے، ناجائز مراعات کا خاتمہ کرکے احتساب کا نظام موثر بنایا جائے۔ حکومت ہر محاذ پر عملاً ناکام ہوچکی ہے، اٹھارویں ترمیم سے بحران ختم ہونے کی بجائے مسائل میں اضافہ ہواہے۔ حکومت فیس بک کی آڑ میں ان ویب سائٹس کو بلاک کر رہی ہے جن پر آصف زرداری کے خلاف مواد موجود ہے، حکومت ویب سائٹس بند کرنے کے بجائے فیس بک اور دیگر ویب سائٹس کے حوالے سے انٹرنیشنل چارٹر اور انٹرنیٹ ایم او یو کے مطابق قانونی کارروائی کے لیے اقدامات کرے۔ سٹیٹ بنک کی رپورٹ نے حکومتی دعووں کا پردہ چاک کردیا، روٹی کپڑا اور مکان فراہم کرنے کے بجائے حکمران کرپشن اور عیاشیوں میں مصروف ہیں۔ جعلی ڈگریوں والوں کو قومی اسمبلی کے بجائے جیل میں ہونا چاہیے۔ پٹرولےم مصنوعات کی موجودہ قےمتوں مےں کم از کم 50 فےصد کمی کا اعلان کےا جائے۔ اکوڑی اور سہون کے مقام پر نئے ڈیم بنائے جائیں۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے گزشتہ روز لاہور پریس کلب میں جماعت اسلامی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، سیکرٹری اطلاعات محمد انور نیازی اور فرحان شوکت کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ لیاقت بلوچ نے آئندہ مالی سال کے لیے قومی اور عوامی مفاد اور فلاح و بہبود پر مبنی بجٹ تجاویز پیش کیں۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ 2سال اٹھارویں ترمیم میں ضائع کردیے گئے اور کہا گیا کہ اس سے بحران اور مسائل ختم ہو جائیں گے لیکن ان میں اضافہ ہو گیا۔ انہوں نے کہا نئے صوبے ناگزیر ہیں۔ پالیسی ساز عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کے بجائے خود قربانی دیں تو پاکستان اقتصادی اعتبار سے مستحکم ہو سکتاہے اور شرمناک شرائط پر قرضے نہیں لینے پڑیں گے۔ فیس بک پر پابندی کے حوالے سے لیاقت بلوچ نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ ایسے تمام صفحات کو بلاک کرنا چاہیے جن پر توہین آمیز مواد ہو۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ رواں مالی سال کے دوران چین، آٹا، دالوں سمیت تقرےباً 25 سے زائد اشےائے خورد و نوش کی قےمتوں مےں 100 سے 120 فےصد تک اضافہ کےا گےا۔ افراطِ زر کی شرح 32فےصد تک پہنچ گئی اور غربت کی لکےر سے نےچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد 35 فےصد سے تجاوز کرگئی۔ موجودہ حکومت کی پہلے سال کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق وفاقی وزارتوں مےں تقرےباً 7 کھرب روپے کی مالی بے ضابطگےاں پائی گئی ہےں، رےنٹل پاور جےسے مہنگے اور غےر ضروری منصوبے شروع کراکر حکومت کرپشن کی نئی مثالےں قائم کررہی ہے حکومت کو صرف سود کی مد مےں اس سال 745 ارب روپے ادا کرنے پڑےں گے۔ زراعت کے شعبہ مےں غےر ترقےاتی اخراجات مےں 64 فےصد اضافہ اور ترقےاتی اخراجات مےں 27 فےصد کمی اسکی مثال ہے، کسان استحصال کا شکارہےں۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اخراجات سمےت دےگر تمام غےر ترقےاتی اخراجات مےں 40 فی صد کمی کی جائے۔ ملازمےن کی کم از کم تنخواہ 10,000/- روپے ماہانہ مقرر اور پنشنرز کی پنشن مےں 50فیصد اضافہ کےا جائے۔ جنرل سےلز ٹےکس کی شرح 5 فےصد کی جائے اور عام اشےائے خورد و نوش کو سےلز ٹےکس سے مستثنیٰ قرار دےا جائے۔ بنےادی اشےائے صرف (آٹا، چاول، گھی، چےنی، دالےں، گوشت) کی قےمتوں مےں کم ازکم30 فی صد کمی کرکے انہےں تےن سال تک کےلئے منجمد کےا جائے۔ NFC اےوارڈ پر بلاتاخیر عمل کیا جائے۔ سٹاک مارکےٹ، رئےل اسٹےٹ، کےپےٹل گےن، تعمےرات کی صنعت کو ٹےکس نےٹ مےں لاےا جائے۔ منفعت بخش، قےمتی اور حساس اداروں کی نجکاری بند کی جائے۔ اس موقع پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر ویلیوایڈڈ ٹیکس کا عذاب عوام پر مسلط کیا جارہا ہے جو معیشت کے لیے سخت نقصان دہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نیٹو کو ٹیکس کے بغیر تیل کی فراہمی جاری ہے، اپنے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنا اور نیٹو کو چھوٹ دینا ملک و قوم سے غداری کے مترادف ہے۔ کرپشن کے لیے رینٹل پاور کا ڈرامہ رچایا گیا ہے۔