سیاسی جماعتیں برانڈڈ ہیں، کارکنوں کا کوئی مستقبل نہیں: سعد رفیق

لاہور (سلمان غنی) مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنماءسابق وفاقی وزیر و رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ آج سیاسی جماعتیں برینڈڈ اور سیاسی کارکنوں کا کوئی مستقبل نہیں۔ بدقسمتی سے کشمیریوں کا مقدمہ کسی حکومت نے نہیں لڑا۔ کارٹون نما لوگ کشمیر کمیٹیوں کے چیئرمین بنائے جاتے رہے۔ نوازشریف امریکی ڈکٹیشن نہیں مانتے۔ ایٹمی دھماکے اور کیری لوگر پر اپنا موقف اسکا ثبوت ہے۔ بے نظیر بھٹو زندہ ہوتیں تو شاید اتنی ڈکٹیشن قبول نہ کرتیں۔ صد زرداری تو پانی کا گلاس بھی امریکہ سے پوچھے بغیر نہیں پیتے۔ حکومتی صورتحال اس ایسی ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت کسی سیاستدان کے پاس نہیں۔ صدر زرداری کے پاس عدلیہ کے سامنے جوابدہی کے سوا کوئی آپشن نہیں۔ این آر او کا چکر خالی واپس جانے والا نہیں۔ وہ گزشتہ روز وقت نیوز کے پروگرام ”اگلا قدم“ میں سوالات کے جوابات دے رہے تھے۔ پروگرام کے پروڈیوسر میاں شاہد ندیم اور اسسٹنٹ پروڈیوسر وقار قریشی تھے۔ خواجہ سعد رفیق نے ایک سوال پر عدلیہ حکومت محاذ آرائی کو جمہوریت کے مستقبل کے حوالہ سے خطرناک قرار دیا اور کہا کہ بدقسمتی سے بی بی بےنظیر دنیا میں موجود نہیں اور پیپلز پارٹی پر الزامات کا صدر زرداری جواب اور سامنا کرتے نظر نہیں آرہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر چوری کرنیوالے اور چور پاکستان کے حکمران بن گئے ہیں تو سپریم کورٹ کیلئے مشکلات تو پیدا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی کی قیادت کسی سیاستدان کے پاس ہوتی تو ایسی صورتحال پیدا نہ ہوتی۔ پیپلز پارٹی مسائل اور مشکلات کو سمجھتی ہے مگر صدر زرداری کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتی۔ انہوں نے کہا کہ 2008ءکے انتخابات بھی پلاننگ کا حصہ تھے لیکن پھر بھی عوام نے مسلم لیگ (ن) کو ترجیح دی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں گورننس دیگر صوبوں سے بہتر ہے۔ اعلیٰ عہدوں پر دیانتدار اور اہل افسر لگائے گئے، نیچے گڑبڑ ہے۔ شہبازشریف وزیراعلیٰ ہیں جادوگر نہیں کہ راتوں رات صورتحال درست کردیں البتہ حالات پہلے سے بہتر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ آزاد لانگ مارچ کے نتیجے میں ہوئی۔ صدر زرداری سیدھی طرح ماننے کو تیار نہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ عوام حالات سے تنگ اور مہنگائی کی آگ میں جھلس رہے ہیں اور لانگ مارچ چاہتے ہیں لیکن ہر لانگ مارچ کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔ ہم آنیوالے دنوں میں عوام کی آواز بن کر حکومت پر دباﺅ بڑھائیں گے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ تیسرے بجٹ کا مرحلہ آگیا لیکن حکومت نے عدلیہ سے چھیڑخانی شروع کردی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم بااختیار ہیں۔ عوام کی ریلیف کا بندوبست کریں۔ ہمیں نہیں توقع کہ بجٹ میں عوام کیلئے کچھ ریلیف کا بندوبست ہو۔ انہوں نے بجلی کے بحران کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت اس حوالہ سے سنجیدہ نہیں۔ کالا باغ ڈیم کو مسئلہ بناکر وڈیروں کو خوش کیا گیا۔ اسکے خلاف فنڈنگ اندرون ملک سے ہوئی یا بیرون ملک سے، ہمیں سب معلوم ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ اے این پی کو اعتماد میں لے اور وزیراعظم ڈیمز کا اعلان کرکے ہیرو بن سکتے ہیں۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ امریکہ سے ڈرنے والے ایران سے بجلی خریدنے کی جرات نہیں کرسکتے۔ سیاسی کلچر کے حوالہ سے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ تاثر بے بنیاد نہیں کہ سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت نہیں، خاندانی جماعتیں ہیں۔ میں تو یہ کہتا ہوں کہ سیاسی جماعتیں برینڈڈ ہیں اور سیاسی کارکنوں کا کوئی مستقبل نہیں۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ بھارت سے مذاکرات چلیں لیکن یہ بامقصد ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ حالت ہماری یہ ہے کہ کارٹون نما لوگ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین بنادئیے جاتے ہیں جنہیں مسئلہ کشمیر کا سرے سے علم نہیں ہوتا۔ کشمیر پر مستقل بنیاد پر کمیٹی بننی چاہئے۔