سال کے آخر میں مڈٹرم الیکشن نظر آ رہے ہیں: قاری زوار بہادر

لاہو ر(رپورٹ: خواجہ فرخ سعید) جمعیت علماءپاکستان (نورانی) کے سیکرٹری جنرل قاری زوار بہادر نے کہا ہے کہ دینی سیاسی جماعتوں کے رہنما متحدہ مجلس عمل کو دوبارہ بحال کرنا چاہتے ہیں۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں نے عوام کو مایوس کیا ہے۔ دونوں جماعتیں ڈیل کے تحت حکومت چلا رہی ہیں، دینی جماعتیں اتحاد بناکر تیسری قوت کی حیثیت سے عوام کے سامنے آ سکتی ہیں۔ گذشتہ روز ایوان وقت میں گفتگو کرتے ہوئے قاری زوار بہادر نے کہاکہ مولانا فضل الرحمن کی ترجیح حکومت نہیں، ایم ایم اے ہے۔ انہوں نے کہاکہ میدان لگنے والا ہے، اس سال کے آخر میں مڈٹرم الیکشن نظر آر ہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت، عدلیہ محاذ آرائی خوفناک شکل اختیار کر رہی ہے۔ مشرف جیسا ڈکٹیٹر عدلیہ سے ٹکراکر نہیں رہ سکا تو پیپلزپارٹی کی حکومت کس کھیت کی مولی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب حکومت کا اولین مسئلہ امن و امان ہے جسے قائم رکھنے میں ناکام رہی ہے۔ صوبے میں ڈاکوﺅں اور ناکوں کی بھرمار ہے، اب تو بھتہ خور گروپ بھی سامنے آ گئے ہیں لیکن وزیراعلیٰ شہبازشریف کی حکومت ان کے سامنے بے بس نظر آتی ہے۔ سستی روٹی سکیم کو انا اور ضد کا مئسلہ بنا لیا گیا ہے ہر سال 14ارب روپے سستی روٹی سکیم پر خرچ کئے جا رہے ہیں۔ دو سال میں 28ارب روپے کی یہ رقم یونیورسٹیاں قائم کرنے پر لگائی جاتی تو پنجاب میں تعلیمی انقلاب آ چکا ہوتا۔