اورکزئی،سوات:بمباری،جھڑپیں،2اہم کمانڈروں سمیت18شدت پسند جاں بحق

سوات + اورکزئی ایجنسی،مینگورہ (ریڈیو نیوز + وقت نیوز +نامہ نگاران) سوات میں فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں 2 شدت پسند کمانڈروں سمیت 4 اور اورکزئی ایجنسی کے مختلف علاقوں میں جیٹ طیاروں کی بمباری اور سکیورٹی فورسز کی شیلنگ سے مزید 14 شدت پسند جاںبحق ہو گئے۔ دوسری طرف جرگہ کے حکم پر شدت پسندوں کے 73 خاندانوں کو سوات سے عارضی کیمپوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ انسانی حقوق کی تنظیم (ہیومن رائٹس کمشن آف پاکستان) نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جرگے کے خلاف کارروائی کرے۔ سوات میں فوج کے ترجمان کرنل اختر عباس نے بتایا امدادی کیمپوں میں 25 خاندانوں اور شدت پسندوں کے دیگر 130 افراد کو رکھا گیا ہے۔ یہ کیمپ مالاکنڈ ڈویژن کے پہاڑی علاقے پالائی میں قائم کیا گیا ہے‘ یہاں کسی کو جانے کی اجازت نہیں۔ نامہ نگار کے مطابق ایسے خاندانوں کی تعداد 73ہے۔حاجی آباد سے مشکوک تھیلے سے 2دستی بم برآمد کر لئے گئے ،عسکری ذرائع کے مطابق سوات کی تحصیل مدین کے علاقے فتح پور میں سکیورٹی فورسز کے سرچ آپریشن کے دوران شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپ ہوئی جھڑپ میں چار شدت پسند مارے گئے جن میں کمانڈر علی رحمان، الیاس اور حبیب الرحمان شامل ہیں جن کا تعلق فتح پور کے علاقوں سے ہے۔ آئی این پی کے مطابق جاں بحق ہونےوالے اہم کمانڈر تھے۔ وقت نیوز کے مطابق سکیورٹی فورسز نے سنگ بک‘ شین قمر اور ڈبوری میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی جس میں 14 شدت پسند جاںبحق جبکہ تین مشتبہ ٹھکانے تباہ ہو گئے جبکہ ڈبوری میں سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر شدت پسندوں نے فائرنگ کر کے ایک سکیورٹی اہلکار کو زخمی کر دیا۔جبکہ دوسری جانب پولیٹیکل ایجنٹ ریاض مسعود کی ہدایت پر ستوری خیل قبیلے کے 10 تباہ شدہ سکولوں کے احاطوں میں ٹینٹ سکول چلانے کیلئے 100 سے زیادہ ٹینٹ سکول تقسیم کئے گئے۔