قبائلی علاقوں میں موجود عسکریت پسند امریکہ پر حملوں کی منصوبہ بندی کررہے ہیں : ہالبروک

واشنگٹن (ثناء نیوز، جی این آئی) پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ ہالبروک کی ایوان نمائندگان کی کمیٹی کو بریفنگ کی مزید تفصیلات کے مطابق ہالبروک نے کہا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود شدت پسند امریکہ پر حملوں کی منصوبہ بندی کررہے ہیں تاہم شدت پسندوں کے اس خطرے کے باوجود پاکستان کے خلاف زمینی فوجی کارروائی کا آپشن زیر غور نہیں پاکستان میں استحکام کی کوشش امریکہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو انتہائی مشکل مسائل کا سامنا ہے جس میں تشدد اور معاشی مسائل شامل ہیں جبکہ لاکھوں لوگ انتہا پسندوں کے باعث بے گھر ہوچکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایسے گروہ موجود ہیں جو امریکہ کے خلاف حملوں کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ لیکن افغانستان کی طرح پاکستان میں امریکی فوج زمینی کارروائی نہیں کر سکتی۔ پاکستان کی سرحدوں کا احترام کرتے ہیں تاہم اس خطرے پر پاکستان سے بات چیت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا استحکام امریکہ کی اولین ترجیح ہے۔ پاکستان کو اس وقت مالا کنڈ آپریشن کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد کی بحالی کا بڑا چیلنج درپیش ہے اور ان حالات میں پاکستان کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔ ہالبروک نے پاکستان کے لئے1.4 ارب ڈالر کا جنگی امداد کا بل اور بے گھر ہونے والوں کے لئے 2 سو ملین ڈالر کی امداد منظور کرنے پر ایوان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس بات کی بھی توقع ظاہر کی کہ اٹلی میں جی ایٹ ممالک کے اجلاس میں شامل اقوام پر بھی زور دیا جائے گا کہ وہ پاکستان کی مدد کریں۔ جی این آئی کے مطابق امریکی ڈیفنس سیکرٹری رابرٹ گیٹس نے خلیجی ریاستوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ افغانستان اور پاکستان سے فرار ہونے والے دہشت گردوں کی لپیٹ میں آ سکتی ہیں۔ یہاں 11 خلیجی ممالک کے دفاعی سربراہوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ خلیجی ممالک کی جانب سے ایران کے ایٹمی پروگرام اور خطے میں دہشت گردی جیسے عالمی مسائل کے خلاف معاونت کو تسلیم کرتا ہے۔ ہم اکٹھے کام کر کے ایران کی خواہشات کو کم کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ اگرچہ اس خلیجی کانفرنس میں افغانستان شامل نہیں لیکن خطے میں خلیجی ممالک کے سکیورٹی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے افغانستان انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ دہشت گردوں نے عراق میں ناکامی کے بعد صورتحال کو اپنے ہاتھ میں کرنے کے لئے پاک افغان خطے میں مکمل توجہ مرکوز کی ہوئی ہے اور القاعدہ مشرق وسطیٰ سمیت یورپ بھر میں کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ پاکستان میں امن معاہدے کے بعد سے طالبان کی دہشت گرد کارروائیوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے ان کا بلا روک ٹوک ایک جگہ سے دوسری جگہ حرکت کرنا اور آپریشنز کے لئے محفوظ ٹھکانوں کی دستیابی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی حکومت کی کوششوں کے باعث اس وقت طالبان کو دشواری کا سامنا ہے۔ سوات آپریشن حوصلہ افزا اقدام ہے لیکن پاکستان کو دہشت گردی کی جڑ کو ختم کرنا ہوگا۔