کرکٹ ٹیم نے 23 مارچ کا تحفہ دیا‘ سیاستدانوں نے قوم کو کیا دیا ؟

لاہور (احمد جمال نظامی سے) کپتان شاہد آفریدی کی زیر قیادت پاکستان کرکٹ ٹیم نے شیربنگال کرکٹ سٹیڈیم میرپور ڈھاکہ میں ”کالی آندھی“ کو 23 مارچ کے ڈے اینڈ نائٹ میچ میں 10 وکٹوں سے جب شکست دی تو شیربنگال سٹیڈیم پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔ ہر طرف سبزہلالی پرچم لہراتا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ پاکستان کے عوام بنگلہ دیش کو آج بھی اپنے وجود کا حصہ سمجھتے ہیں اور بنگلہ دیش میں آج بھی اس نسل کے نمائندے حیات ہیں جس نے 1947ءمیں بنگلہ دیش کو مشرقی پاکستان کے نام سے برصغیر کے نقشے پر ابھرنے والی آزاد اور خودمختار مملکت کی ایک بڑی اکائی کے طور پر پانچ صوبوں میں سب سے بڑا صوبہ بنتے دیکھا تھا۔ تاریخ کے صفحات کے مطابق بنگلہ دیش پر 19 دسمبر 1971ءتک سبزہلالی پرچم لہرایا جاتا رہا تھا۔ 23 مارچ کو یوم پاکستان کے طور پر منایا جاتا ہے حالانکہ یہ دن بنگلہ دیش کے رہنے والوں کے لئے بھی اتنی ہی اہمیت کا حامل ہے کہ 23 مارچ کو لاہور کے منٹو پارک میں منعقدہ آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ جلسہ میں جس کی صدارت قائداعظم محمد علی جناحؒ نے کی تھی اس جلسہ میں قرارداد پاکستان بنگلہ دیش کے عظیم سپوت مولوی فضل الحق نے پیش کی تھی۔ مشرقی بنگال کے لوگوں نے بھی قیام پاکسان کی جنگ شانہ بشانہ ہو کر لڑی تھی۔ آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام بھی 1906ءمیں ڈھاکہ میں ہی عمل میں آیا تھا۔ 23 مارچ کو جب شاہد آفریدی کی قیادت میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم نے دنیائے کرکٹ کی کالی آندھی کا رخ واپس جزائر غرب الہند کی طرف موڑ دیا تو شیربنگال کرکٹ سٹیڈیم کے گردونواح کی فضا برسوں بعد ایک بار پھر پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی‘ ٹیم کو مبارکباد دینے والے سیاست دانوں کو سبق بھی حاصل کرنا چاہئے۔ صدر آصف علی زرداری نے 22 مارچ کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں انگریزی زبان میں لکھی گئی تقریر جس طرح پڑھ کر سنائی اگر اپوزیشن جماعتوں نے صدر کے اس خطاب کا بائیکاٹ نہ کیا ہوتا اور موجودہ حکومت کے کرتوتوں پر گو زرداری گو کے نعرے لگانے اور سابق صدور غلام اسحاق، فاروق احمد خان لغاری اور جنرل پرویزمشرف کے ادوار کی یاد تازہ کی ہوتی تو ایوان صدر میں بیٹھے پےپلزپارٹی کے شریک چیئرمین کو یقینا ایئرکنڈیشنڈ ہال میں بھی پسینہ آ جاتا۔ آصف علی زرداری نے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو ملک کے نازک سیاسی، اقتصادی اور اندرونی حالات کے حوالے سے مل بیٹھ کر قومی ایجنڈا تیار کرنے کی دعوت دی ہے۔ یہ دعوت بلاشبہ ایک مثبت پیشکش ہے لیکن اگر یہی دعوت انہوں نے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کی بجائے خالصتاً صدر کے طور پر دی ہوتی تو کسی سیاسی جماعت کے پاس اس دعوت کو قبول نہ کرنے کا کوئی جواز نہ ہوتا۔ انہیں چاہیے کہ وہ موجودہ حکومت کے لئے اپنا پانچ سال کا دورانیہ پورا کرنے کے لئے خودکو حکومتی اور پارٹی امور سے الگ کر لیں۔ صدر خود اندازہ کر لیں کہ انہوں نے ”یوم پاکستان“ پر قوم کو کیا دیا۔ 22 مارچ کو پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران ملک و قوم کو درپیش بھوک، افلاس، غربت اور ملک کے چاروں صوبوں میں امن و امان کے مسائل کا تذکرہ گول کر کے وزیراعظم کو ان کے کن کارناموں پر زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔ دہشت گردی کی جنگ میں امریکہ کا اتحادی ہونے کی قیمت دن دیہاڑے دو پاکستانیوں کے قاتل کو امریکہ کے حوالے کر کے ادا کر دی گئی۔ امریکہ سے یہ تک نہیں پوچھا کہ نیٹو افواج پاکستان پر ڈرون حملوں کے ذریعے پاکستان کی کون سی خدمت سرانجام دے رہی ہیں۔ قومی کرکٹ ٹیم نے تو یوم پاکستان پر کوارٹر فائنل مقابلہ جیت کو قوم کو خوشیاں دے دی ہیں۔ پیپلزپارٹی کی برسراقتدار قیادت نے گزرے ہوئے تین برسوں میں ملک کو کرپشن کلچر، خودکش حملوں، ٹارگٹ کلنگ، افراتفری، بدنظمی، معاشی بدحالی، مہنگائی، بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ، صنعتوں کی تباہی، بے روزگاری اور بین الاقوامی قرضوں کے سوا کیا دیا۔ حکمرانوں اور ان کے اتحادیوں کے علاوہ اپوزیشن جماعتوں نے بھی گذشتہ تین برسوں میں نام نہاد مفاہمت کلچر اور فرینڈلی اپوزیشن کے علاوہ کچھ نہیں دیا جس کی جھلک صدر کے پارلیمنٹ میں خطاب کے دوران اپوزیشن جماعتوں نے صدر کا محاسبہ کرنے کی بجائے اپنی نشستیں چھوڑ کر پارلیمنٹ سے باہر آ جانے کی صورت میں نظر آئی۔ کرکٹ ٹیم کے ارکان کے لئے مرحبا لیکن پیارے وطن کے پیارے سیاستدانو! اپنے گریبانوں میں جھانک کر بتاو کہ آپ نے ”یوم پاکستان“ پر قوم کو کیا دیا ہے؟