پاکستان بھارت کے ساتھ مذاکرات کو مسئلہ کشمیر کے حل سے مشروط کرے : علی گیلانی

لاہور (سلمان غنی) کشمیری لیڈر شپ نے پاکستان کی جانب سے تنازعات کے حل کیلئے بھارت سے ملکر کام کرنے کی تیاری کے عزم کو محض خوش فہمی قرار دیتے ہوئے اس پر شدید تحفظات ظاہر کئے ہیں اور کہا ہے کہ 62 سال میں تقریباً ڈیڑھ سو مرتبہ مذاکرات کرنے کے بعد کشمیر پر بھارتی ضد اور ہٹ دھرمی کا اندازہ نہ کرنے کے بعد بھی ان سے اچھی توقعات قائم کرنے کو محض سادگی بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ حقےقت یہ ہے کہ بھارت نے مذاکراتی عمل کو محض وقت گزاری اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکے کیلئے استعمال کیا۔ پاکستان کو چاہئے کہ مذاکراتی عمل کو کشمیر سے مشروط کرے اور مسئلہ کشمیر کے حل تک تعلقات اور مذاکرات میں پیشرفت نہیں ہونی چاہئے۔ جدوجہد آزادی کشمیر کے رہنماءسید علی گیلانی نے نوائے وقت سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے مذاکرات اور مذاکرات میں مسئلہ کشمیر سمیت اصل مسائل سے فرار دراصل پاکستان کو بلیک میل کرکے دباﺅ میں رکھنے کی کوشش ہے۔ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ تھا، نہ ہے، نہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کشمیریوں کے حق خودارادیت محض وقت گزر جانے کے باوجود معدوم نہیں ہوسکتا اور اپنے اس حق کی حفاظت کشمیری عوام نے اپنے خون سے کی ہے۔ انہوں نے ایک اور سوال پر کہا کہ کشمیریوں کا بنیادی مسئلہ صرف اور صرف حق خودارادیت کا ہے اور اس پر پاکستان، بھارت اور کشمیری عوام کی شرکت اور اتفاق ضروری ہے۔