کم تعلیم یافتہ پیش امام مسلمان نوجوانوں کو انتہا پسندی کی طرف راغب کرتے ہیں: برطانوی تھنک ٹینک

لندن (آصف محمود سے) ایک اسلامی تھنک ٹینک نے اپنے سروے میں کہا ہے کہ برطانیہ میں بزرگ افراد کی طرف سے مساجد کا انتظام چلانے اور پیش اماموں کے کم تعلیم یافتہ ہونے کے باعث برطانیہ میں مسلمان نوجوان انتہا پسندی کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ پاکستانی کرکٹ لیجنڈ عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما خان کی انتہا پسندی کی مخالف تنظیم ’’دی کویلئم فائونڈیشن‘‘ کے سروے میں حکومت سے برطانیہ آنے والے علماء کیلئے ویزہ پابندیاں مزید سخت کرنے‘ انگریزی زبان میں تبلیغ و اشاعت اور جمہوریت کے اصولوں کی حمایت نہ کرنے والی مساجد کی گرانٹ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سروے رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ مذہبی رہنمائوں کی اکثریت کو انگلش پر عبور حاصل نہیں۔ وہ مسلمان نوجوانوں کو درپیش حقیقی تشویش کا ادراک نہیں رکھتے۔ یہ سروے جو 512 مساجد کو بھیجے گئے 5 سوالوں کے جوابات پر مبنی ہے میں کہا گیا ہے کہ مذہبی رہنما برطانوی اقدار کی ترویج نہیں کرتے بلکہ نوجوانوں کو جہاد کی تعلیم دیتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 44 فیصد مساجد میں نماز جمعہ کی تقاریر اور خطبہ انگریزی میں نہیں پڑھا جاتا‘ عورتوں کے مساجد میں داخلے پر پابندی کا تناسب بھی یہی ہے۔ گروپ نے لنکاشائر کی ایک مسجد کا خصوصی ذکر کیا ہے جس کی انتظامیہ بھارتی گجرات سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کے ایک ممبر کے مطابق مسجد میں پاکستانیوں کو اجازت نہیں ہے۔ اس مسجد کو 26 ہزار پائونڈ امداد برطانوی ٹیکس دہندگان کی رقم سے ملتی ہے۔ دریں اثناء برطانوی ہوم آفس کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ مذہبی رہنمائوں کے حوالے سے پہلے ہی سخت امیگریشن قوانین نافذ ہیں۔
برطانوی تھنک ٹینک