سوات امن معاہدہ‘ امریکی حکام اختلافات کا شکار

لاہور (ندائے ملت رپورٹ) سوات امن معاہدہ کا مستقبل اگرچہ ابھی سوالیہ نشان ہے تاہم اس سلسلے میں امریکی حکام اختلافات کا شکار ہو گئے ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون اور ایوان صدر وائٹ ہائوس کی جانب سے مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ ’’ہفت روزہ ندائے ملت‘‘ میں شائع شدہ رپورٹ کے مطابق دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کے آغاز سے ہی اگرچہ دونوں بڑے امریکی اداروں کی پالیسی میں یکسانیت کا فقدان نظر آ رہا ہے مگر سوات معاہدہ پر تضاد واضح ہو گیا ہے۔ وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے پینٹاگون کے ردعمل میں سوات معاہدہ کو محض فائربندی قرار دیا گیا ہے جبکہ وہائٹ ہائوس کے ترجمان رچرڈ ہالبروک نے اس معاہدہ پر بہت سے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اس معاہدہ سے طالبان کو ایک مرتبہ پھر منظم ہونے کا موقع ملے گا۔ وہائٹ ہائوس کا یہ ردعمل سابق امریکی صدر بش کی پالیسیوں کا تسلسل سمجھا جا رہا ہے۔ امکان ہے کہ امریکی پالیسیوں میں یہ تضاد سوات امن معاہدہ پر گہرے اثرات چھوڑے گا۔ پاکستان کے صدر آصف زرداری نے امریکی صدر باراک اوباما کو بعض یقین دہانیاں کرائی ہیں تاہم وہائٹ ہائوس اور پینٹاگون کسی عالمی مسئلہ پر پہلی مرتبہ مخالف سمتوں میں چلتے نظر آ رہے ہیں۔
امریکی حکام/ اختلافات