عدالتی فیصلوں کو چیلنج کرنے والوں سے قانون کی بالادستی کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے : چودھری شجاعت حسین

لاہور (خبر نگار خصوصی) سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے حکومت کی عدلیہ سے محاذ آرائی کے عمل کو ملک کے جمہوری مستقبل کیلئے خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم اداروں کی بالادستی اور مضبوطی کی بات کرتے ہیں لیکن عملاً اسکے خلاف سرگرم عمل رہتے ہیں اور تاریخ سے سبق حاصل نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی آزادی اور خودمختاری کی حیثیت اپنی جگہ لیکن پارلیمنٹ کا کام قانون سازی ہے تو عدلیہ کا کام اسکی تشریح ہے۔ خدانخواستہ اگر پارلیمنٹ متفقہ طور پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نام سوشلسٹ ریپبلک رکھنے کا اعلان کردے تو یہ نہ اسکا اختیار ہے اور نہ اسکا استحقاق، کسی کو پاکستان کے بنیادی معاملات اور نظریات پر اثرانداز ہونے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ وہ گزشتہ روز ایک تقریب میں نوائے وقت سے خصوصی بات چیت کررہے تھے۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ 18 ویں ترمیم پر خوشیاں منانے والے یہ بتائیں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ 18 ویں ترمیم کے پاس ہونے کے بعد ملک میں استحکام آنے کی بجائے انتشارپ یدا ہوگیا۔ حکومت خود عدالتی فیصلوں سے احتراز برتنے لگی۔ انہوں نے کہا کہ جب حکمران خود ہی عدالتی فیصلوں کو چیلنج کرنے لگیں تو پھر اس سے قانون کی بالادستی کی کیا توقع کی جاسکتی ہے اور کیسی حکومتی رٹ قائم کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کا طرزعمل بتا رہا ہے کہ خرابی کہیں ان کے اندر موجود ہے ورنہ آج ملک کے اندر ریاستی اداروں کے درمیان یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی۔ انہوں نے ایک اور سوال پر کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ حکمرانوں کی ”مت وج“ چکی ہے۔ فوزیہ وہاب صاحبہ آئین کا نعوذ باللہ قرآن پاک سے موازنہ کررہی ہیں۔ یہ گناہ کبیرہ ہے، نہ جانے یہ بحث میں کہاں نکل جاتے ہیں۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ آج ملک کا اصل مسئلہ اقتصادی ہے۔ بجلی کے بحران نے صنعتی عمل ختم کردیا ہے۔ لوگوں کو دال روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ بیروزگاری کا عمل اپنی انتہاﺅں کو چھو رہا ہے اور یہ نان ایشوز کو ایشوز بناکر عوام کو بیوقوف بنانا چاہ رہے ہیں۔ چودھری شجاعت نے کہا کہ اداروں کی مضبوطی، بالادستی اور جمہوریت کے استحکام کی بات کرتے ان کی زبانیں نہیں سوکھتی تھیں، اب بتائیں کہ یہ سب کچھ کیا ہے۔ ایک اور سوال پر چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ حکمرانوں اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ ٹوٹ چکا ہے۔ آج 17 کروڑ عوام ان حکومتوں کی اپوزیشن ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ سوائے حکمران طبقہ کے، یہ کسی ایک طبقہ کا نام لے دیں کہ وہ اس حکومت کی کارکردگی سے خوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کو کوسنے والے بتائیں کہ ان کا اپنا کیس کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت جوابدہی کا نام ہے۔ جمہوریت ملکوں کے اندر استحکام کا ذریعہ بنتی ہے اور عوام خوشحال ہوتے ہیں۔ ادارے فعال اور مضبوط ہوتے ہیں۔ یہ کیسی جمہوریت ہے جس میں خزانہ کنگال، عوام بے حال اور حکمران خوشحال ہیں۔ ان کی اپنی عیاشیوں میں تو کوئی فرق نہیں آیا لیکن عوام کا چولہا ٹھنڈا ہوگیا۔ چودھری شجاعت نے کہا کہ احتساب کا نام لینے والے اب خود قابل احتساب ہیں۔ سیاسی مخالفین کیخلاف انتقام کا عمل کسی حکمران کو مضبوط نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر واقعتاً آج احتساب کا شفاف عمل ہو تو حکومتوں میں بیٹھے لوگوں میں سے کون بچ سکے گا۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ ہم سیاسی لوگ ہیں۔ ہم ہر طرح کی مخالفت برداشت کرنے کے باوجود جمہوریت کو ترجیح دینگے لیکن حکمرانوں اور سیاستدانوں کو چاہئے کہ اپنے طرزعمل پر نظرثانی کریں۔ عدالتوں سے محاذ آرائی نہ ان کیلئے اچھی ہے نہ حکومت اور نہ سسٹم کیلئے، عدالتوں کو اپنا کام کرنے دیں اور حکومت اپنا کام کرے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں پر حملوں یا اس پر اثراندازہونے کے عمل سے کبھی حکومتوں کی جھولی میں نیک نامی نہیں آئی۔ حکومت کو چاہئے کہ عوام کی حالت زار کی فکر کریں اور اقتدار کے ایوانوں سے باہر میدانوں میں آکر معلوم کریں کہ دال روٹی کی قیمت کیا ہے اور عوام کس حال میں ہیں۔ انہوں نے ایک اور سوال پر کہا کہ سیاست میں ضد اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرنے والے ہمیشہ اپنے گھروں تک محدود ہوجاتے ہیں۔ سیاست ڈائیلاگ اور مفاہمت کے عمل کا نام ہے۔ اسے ذاتی دشمنیوں کا ذریعہ نہیں بننا چاہئے۔ باوجود سیاسی اختلافات کے، میں کھلے دل سے کہتا ہوں کہ ہماری کسی سے ذاتی دشمنی نہیں۔