’’یوگا ہندووانہ خرافات ہے مسلمان دور رہیں‘‘ مسلم پرسنل لا بورڈ، مخالفین پاکستان چلے جائیں: ہندو رہنما

نئی دہلی (نیوز ڈیسک) آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے جسمانی ورزش ’’یوگا‘‘ کی بھرپور مخالفت کرتے ہوئے اسے برہمن ہندوئوں کا طریقہ واردات قرار دیا ہے۔ بورڈ کے سیکرٹری جنرل مولانا ولی رحمانی نے بھارت بھر کے مسلم رہنمائوں اور عمائدین کے نام لکھے خط میں کہا ہے کہ وشوا ہندو پریشد اور آر ایس ایس کے ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے بی جے پی سکولوں میں بچوں کیلئے بندے ماترم گانا لازمی قرار دینے کے علاوہ نصاب میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ اب ’’یوگا ڈے‘‘ جیسا ہندووانہ تہوار بھی منانے لگی ہے۔ انہوں نے کہا یوگا دن اور سنگھ پریوار کے متعصب ہندو لیڈر کے بی ہگیوار کی برسی ایک ہی روز 21 جون کو آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یوگا کے دوران ’’سوریا نمسکار‘‘ (سورج کو سلام) اور ’’اوم‘‘ کا جاپ کرنا سراسر ہندووانہ اور غیر شرعی غیر اسلامی طرز عمل ہے۔ بھارتی مسلمانوں کو ’’یوگا‘‘ جیسی خرافات سے دور رہنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ 7 جون کو لکھنئو میں ہونیوالے اجلاس میں یوگا کو غیر اسلامی قرار دے چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت بھارت کے اصل مسائل بیروزگاری، غربت وغیرہ پر قابو پانے کی بجائے یوگا ڈے جیسی ڈرامے بازیوں میں لگی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بھارت سرکار اپنے کنٹرول والی پرانی مساجد کو نمازیوں کیلئے کھول دے وگرنہ بورڈ دہلی ہائیکورٹ سے رجوع کریگا۔ دریں اثنا انتہا پسند ہندو رہنمائوں نے مسلم پرسنل لا بورڈ کے خط پر اپنا شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ وشوا ہندو پریشد کی رہنما سادھوی پراچی نے کہا کہ یوگا بھارتی تہذیب و ثقافت کو ظاہر کرتا ہے یوگا کی مخالفت کرنیوالوں کو پاکستان چلے جانا چاہئے۔ دریں اثنا بی جے پی کے ترجمان نالین کوہلی نے سادھوی پراچی کے خیالات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وی ایچ پی ایک علیحدہ تنظیم ہے جس کا بی جے پی سے کوئی تعلق نہیں، ادھر بی جے پی کے فسادی رکن پارلیمنٹ یوگی ادتیاناتھ نے وارنسی میں فنکشن سے خطاب کے دوران کہا کہ یوگا اور ’’سوریہ نمسکار‘‘ کے مخالفین بھارت چھوڑ دیں اور سمندر میں ڈوب کر مر جائیں۔