پنجاب بیورو کریسی کا اجلاس‘ پاکستان‘ چین اقتصادی راہداری منصوبے تیز رفتاری سے مکمل کرنے کا فیصلہ

لاہور (معین اظہر سے) پاکستان، چین اقتصادی راہداری منصوبوں پر تیزرفتاری سے عملدرآمد کی حکومت پنجاب کی پالیسی کی وجہ سے دیگر ترقیاتی منصوبے متاثر ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے کیونکہ ان منصوبوں پر تیزرفتاری سے عملدرآمد کی صورت میں صوبے میں ٹیکنیکل لیبر، سیمنٹ، سریا اور دیگر اشیاء کا بحران پیدا ہوسکتا ہے جس پر وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر وزیر ہائوسنگ، وزیر مائنز، وزیر خزانہ ، چیف سیکرٹری، آئی جی، سیکرٹری پی اینڈ ڈی، سیکرٹری آئی اینڈ سی، ڈی جی ایل ڈی اے، ندیم اشرف سی ایم کوآرڈینیٹر برائے انرجی کا ان مشکلات کا جائزہ لینے کیلئے اعلی سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں ندیم اسلم چوہدری کوآرڈینیٹر انرجی برائے چیف منسٹر نے کہا وزیراعلیٰ کی ہدایات کی روشنی میں پاکستان، چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں پر انتہائی تیزرفتاری سے کام کیا جائیگا۔ ان منصوبوں میں 660 میگاواٹ کا ساہیوال، 1320 میگا واٹ کا رحیم یار خان اور مظفر گڑھ جبکہ 330 میگاواٹ کا سالٹ رینج پاور پلانٹ 1000میگاواٹ کا قائداعظم سولر انرجی پارک اور اورنج لائن میٹرو ٹرین شامل ہے۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری انرجی نے بتایا میٹاری سے لاہور اور مٹیاری سے فیصل آباد ٹرانسمیشن لائن اور لاہور کراچی موٹر وے پراجیکٹ بھی پاکستان، چین اقتصادی راہداری منصوبے کا حصہ ہیں۔ آئی جی پنجاب نے سپیشل پروٹیکشن یونٹ جو غیر ملکیوں کی سکیورٹی کیلئے بنایا جارہا ہے، پر بریفنگ دی۔ میٹنگ میں بتایا گیا ان پراجیکٹ کی تیزی سے تکمیل کیلئے پنجاب حکومت کے پاس ٹرینڈ لیبر موجود نہیں، محکموں کے پاس دیگر انفراسٹرکچر کی کمی ہے جس کی وجہ سے دیگر ترقیاتی منصوبے متاثر ہوسکتے ہیں جس پر فیصلہ کیا گیا پاکستان، چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں پر تیز ی سے کام جاری رکھا جائیگا۔ دیگر ترقیاتی منصوبوں کو لیبر، سیمنٹ، اینٹ، ریت، بجری، سریا اور دیگر چیزوں سے متاثر ہونے سے بچانے کیلئے منصوبہ بندی کی جائیگی۔ اقتصادی راہداری کیلئے ہنرمند افراد کا ہر ٹریڈ کا ڈیٹا بنایا جائیگا تاکہ کام کی رفتار متاثر نہ ہو۔ ہنرمند افراد کی کمی پوری کیلئے سرکاری اور پرائیویٹ سیکٹر کے ٹیکنکل اداروں میں ہنگامی منصوبہ شروع کیا جائیگا۔ پرائیویٹ سیکٹر کو اضافی سہولیات دیکر کہا جائیگا وہ سیمنٹ، سٹیل، اینٹوں اور دیگر سامان کو ان پراجیکٹ کیلئے اضافی تیار کریں تاکہ مارکیٹ میں اسکا اثر نہ پڑسکے۔ وفاقی حکومت کے جو پراجیکٹ اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت شروع ہونے ہیں انکی ڈیمانڈ کو بھی پنجاب حکومت اپنے پلان میں شامل کریگی تاہم آخر میں اس بات پر اتفاق کیاگیا سرکاری محکموں کا سٹرکچر اور کارکردگی لیول اسطرح کا نہیں کہ وہ موجودہ تمام اقدامات کرسکیں تاہم وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں پاکستان، چین اقتصادی راہداری کیلئے پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا جو منصوبوں کی نگرانی کریگا، اس میں پرائیویٹ سیکٹر سے بڑی تنخواہوں پر ماہرین کو رکھا جائیگا۔ واضح رہے ان منصوبوں کے شروع ہونے پر متعدد اشیاء مارکیٹ میں شارٹ جبکہ سیمنٹ، سریا، سٹیل، اینٹ، بجری وغیرہ مہنگی ہونے کا خطر ہ پیدا ہوگیا ہے جو صوبائی محکموں اور وفاقی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ۔