وکیل کے بیٹے کی جعلی مقابلے میں ہلاکت، ایس ایچ او نواب ٹائون سمیت 8 اہلکاروں کیخلاف مقدمہ

لاہور(نامہ نگار)اسلام پورہ پولیس نے سیشن کورٹ کے باہر سے وکیل کے بیٹے کو اغواء کرکے جعلی پولیس مقابلے میں مارنے پرایس ایچ اونواب ٹائون انسپکٹر عمران قمرپڈانہ، ایس ایچ او نصیر آباد سب انسپکٹر خالد پرویز اورانچارج انویسٹی گیشن نواب ٹائون انسپکٹر سجاد رشید سمیت 8 پولیس اہلکاروں کے خلاف قتل اور اغواء کی دفعات پر مقدمہ درج کرلیا۔ مقدمہ درج ہونے کے باوجود ملزم افسر بدستور سیٹوں پر براجمان ہیں جبکہ انویسٹی گیشن پولیس اسلام پورہ نے کسی بھی پیٹی بند بھائی کو گرفتار نہیں کیا۔ تفصیلات کے مطابق محمد مسعود اختر ایڈووکیٹ نے عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ اس کے25سالہ بیٹے احتشام مسعود کو 21 مئی کو دوپہر سیشن کورٹ کے قریب سے ایس ایچ او نواب ٹائون سب انسپکٹر عمران قمرپڈانہ،ایس ایچ او نصیر آباد سب انسپکٹر خالد پرویز، انچارج انویسٹی گیشن نواب ٹائون انسپکٹر سجاد رشید،سب انسپکٹر نوید اسلم، کانسٹیبل محمد اعظم، کانسٹیبل محمد جاوید، کانسٹیبل محمد ریاض اور تھانہ نواب ٹائون کے سرکاری ڈرائیور عبد الغفور نے اسلحہ کی نوک پر اغواء کرنے کے بعد نواب ٹائون کے علاقہ میں لے جا کر قتل کردیا اور پھر اسے پولیس مقابلے کا رنگ دے دیا۔ عدالت نے ایس ایچ او اسلام پورہ کو مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا۔ مگر پولیس نے مقدمہ درج نہ کیا۔اس دوران ایس ایچ او نواب ٹائون سب انسپکٹر عمران قمرپڈانہ نے ہائیکورٹ سے حکم امتناعی حاصل کرلیا تاہم گذشتہ روز ہائیکورٹ نے ایس ایچ او انسپکٹر عمران قمر کی درخواست کو خارج کرتے ہوئے سیشن عدالت کے احکامات کو قائم رکھا۔ جس پر تھانہ اسلام پور ہ نے 8 پولیس اہلکاروں کے خلاف اغواء اور قتل درج کرلیا۔ بتایا گیا ہے کہ پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں قتل ہونے والا احتشام مسعودڈیڑھ سالہ بیٹے اور چار ماہ کی بیٹی کا باپ تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق ایس ایچ او نواب ٹائون انسپکٹر عمران قمرپڈانہ جعلی مقابلوں کا ماہر ہے اور اس واقعہ کے بعد اور تین افراد کو مبینہ مقابلوں میں مار چکا ہے۔