علاقائی سلامتی پر حملے یا عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کا بھرپور جواب دینگے: پاکستان

اقوام متحدہ (اے پی پی) پاکستان اپنی علاقائی سلامتی پر حملے یا اپنے کسی حصہ میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کسی بھی کوشش کا پوری طاقت سے جواب دے گا۔ یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں افغانستان کی صورتحال پر مباحثے کے دوران اظہار خیال میں کہی۔ پاکستانی مندوب نے تمام دہشت گردوں کے خاتمہ تک بلا امتیاز کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں اور ان کو سپانسر کرنے والے خواہ وہ اندرون ملک ہوں یا بیرون ملک، ہم اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے پوری قوت سے کارروائیاں جاری رکھیں گے۔ دہشت گردی ایک مشترکہ چیلنج ہے اور پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں حالیہ اضافے خصوصاً افغان پارلیمنٹ پر حملے کی مذمت کی ہے پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لئے افغان حکومت سے بھرپور تعاون جاری رکھے گا۔ پاکستان افغانستان میں امن و سلامتی کے فروغ میں تعمیری کردار ادا کرے گا جسے اس کے خیال میں سب سے بہتر انداز میں افغان قیادت میں قومی مفاہمت کے عمل کے ذریعے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ افغان حکومت کے حالیہ اقدامات سے فریقین کے درمیان براہ راست مذاکرات اور پرتشدد واقعات میں کمی کی توقع ہے۔ پاکستان افغانستان میں قومی مفاہمت کے عمل میں بھرپور تعاون کرے گا تاہم ان کی کامیابی کے لئے دوسری طرف سے تعاون اور صبر وتحمل کے مظاہرے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی مندوب نے دونوں ممالک کے درمیان عدم مداخلت، اپنی سرزمین کو دوسرے کے خلاف استعمال کی اجازت نہ دینے اور ایک دوسرے کے دشمن کو مشترکہ دشمن تصور کرنے کے اصولوں کی بنیاد پر تعلقات کار میں اضافے کا عمل جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا جس پر وزیراعظم کے حالیہ دورہ کابل میں افغان صدر کے ساتھ ملاقات کے دوران اتفاق کیا گیا تھا۔ افغانستان میں پائیدار امن پورے خطے میں استحکام کا باعث بنے گا۔ پاکستانی مندوب نے افغان حکومت کی طرف سے پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کی وطن واپسی اور بحالی بارے اقدامات کو بھی سراہا۔ انہوں نے منشیات کی غیر قانونی تجارت روکنے کے لئے عالمی برادری سے تعاون کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے مفادات مشترک اور منزل ایک ہے اس لئے پاکستان پائیدار امن کے قیام کے لئے افغان عوام کی ہر ممکن مدد کرے گا۔ قبل ازیں افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یو این اے ایم اے) کے سربراہ اور عالمی ادارہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کے خصوصی ایلچی نکولس ہیزوم نے سلامتی کونسل کو افغانستان کی صورتحال پر سہ ماہی بریفنگ دی۔ انہوں نے افغان سکیورٹی فورسز کی صورتحال پر کنٹرول کی کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے افغانستان میں قدم جمانے کی داعش کی کوششوں کو تشویشناک قرار دیا اور کہا کہ اس خطرے سے نمٹنے کے لئے خطے کے دیگر ممالک کا تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے بتایا کی رواں سال کے دوران اب تک مختلف کارروائیوں میں 4216 افغان شہری ہلاک و زخمی ہو چکے ہیں۔