ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور سفری سہولتوں میں اضافہ کیلئے ترمیم اچانک لائی گئی

اسلام آباد (عترت جعفری) قومی اسمبلی نے پارلیمنٹ کے ارکان کی تنخواہوں اور سفری سہولتوں میں اضافہ کے لئے 1974 کے ایکٹ میں ترمیم کی ہے۔ مجوزہ ترمیم اچانک سامنے لائی گئی ہے اور 5 جون کو پیش کئے جانے والے فنانس بل میں اس کا کوئی تذکرہ نہیں تھا۔ اپوزیشن نے مجوزہ فنانس بل میں ترامیم تجویز کر رکھی تھی جو اگرچہ واک آؤٹ کی وجہ سے زیرغور نہیں آ سکی۔ تاہم 1974 ء کے ایکٹ میں حکومتی ترمیم کی مخالفت سامنے نہیں آئی۔ گزشتہ روز قومی اسمبلی کا اجلاس ہنگامہ خیز رہا۔ تاہم اس کا نتیجہ قبل اوقت بجٹ کی منظوری کی صورت میں سامنے آیا اور اپوزیشن بجٹ 2015-16 کی منظوری کی نازک لمحات میں حکومت کو ’’ٹف ٹائم‘‘ دینے کا موقع گنوایا۔ حکومت نے فنانس بل کے ذریعے ’’آڈیٹر جنرل پاورز اینڈ ٹرم آف سروس‘‘ ایکٹ میں بھی اہم ترمیم کی ہے۔ اس کے تحت صدر کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ آڈیٹر جنرل کی طرف سے ’’اخراجات کی سینکشن‘‘ کاآڈٹ کرا سکیں گے۔ اس سلسلے میں صدر مملکت ایک خودمختار افسر مقرر کریں گے۔ آڈیٹر جنرل اس افسر کو تمام ضروری ریکارڈ فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔ اس طرح آڈیٹر جنرل پر بھی ایک چیک آ گیا ہے۔ حکومت کی فنانس بل کے ذریعے سیلف ایسسمنٹ سکیم کے اندر بھی اہم تبدیلیاں کی ہیں۔ شیئرز خریداری کے ایک سال کے اندر فروخت کرنے پر 15 فیصد دو سال کے اندر 12.5 فیصد دو سال سے چار سال میں فروخت پر 7.5 فیصد اور 4 سال کے بعد شیئرز کی فروخت پر ٹیکس کا استثنیٰ ہو گا۔