پاور سیکٹر کے تمام سربراہ 6 ماہ میں تبدیل ہوں گے‘ پیپلز پارٹی دور کے منصوبے پر عمل شروع

لاہور (ندیم بسرا) ملکی بیورو کریسی نے انجینئرز برادری کو تقسیم کرنے کیلئے نیا منصوبہ تیار کر لیا۔ پاور سیکٹر کے تمام سربراہان کو 6 ماہ کے اندر تبدیل کرنے اور نئے بھرتی کیلئے ابتدائی کام شروع۔ اس اقدام کے بعد انجینئر برادری میں شدید بے چینی پیدا ہو گئی اور تمام انجینئرز ایسوسی ایشن، پاور ایسوسی ایشن اجلاس جولائی کے پہلے ہفتے کریں گی۔ انجینئرز ایسوسی ایشنز نے وزیراعظم نوازشریف سے اس صورتحال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ سربراہان کی تبدیلی کا پیپلز پارٹی کے دور حکومت سے شروع ہونے والے کام پر عملدرآمد کیلئے بیورو کریسی نے نئی حکومت کو اپنے سحر میں قید کر لیا۔ گذشتہ دور میں بیورو کریسی نے ایک ایسے ہی اشتہار کے ذریعے ملک بھر میں ہنگامے شروع کرائے تھے۔ دفاتر کی تالہ بندی ہوئی، پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک سنٹرل لیبر یونین، واپڈا پیغام یونین اور پاور ایسوسی ایشن نے ایک ماہ سے زائد وقت تک احتجاج کیا، ریلیاں نکالیں، دفاتر میں کام بند کیا۔ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو دفاتر میں بیٹھنے سے منع کر دیا اور کسی بھی جگہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس نہ ہو سکا۔ اب پیپلز پارٹی کی پالیسی پر عملدرآمد ہونے جا رہا ہے۔ وزارت پانی و بجلی کی طرف سے اشتہار نہیں دیا گیا ایک اور ادارے کی طرف سے مشتہر کیا گیا ہے جس میں پہلے مرحلے میں ایم ڈی پیپکو، ایم ڈی این ٹی ڈی سی، ایم ڈی نیپرا اور چیف ایگزیکٹو آفیسر متبادل توانائی بورڈ کو تبدیل کر کے ان کی جگہ اوپن مارکیٹ سے لاکھوں روپے مشاہرے پر افسران بھرتی کئے جائیں گے۔ بتایا گیا ہے پاور سیکٹر کے مختلف ڈیپارٹمنٹس کے ایم ڈی انجینئر بھی ہو سکتے ہیں اور معاشی ماہر بھی۔ اب اس صورت حال میں جہاں پیپکو کا محکمہ پہلے ہی غیر فعال ہو گیا ہے اس کے زیر انتظام تمام تقسیم کار کمپنیاں خودمختار ہیں اب ایم ڈی پیپکو 5 لاکھ سے 7 لاکھ روپے پر رکھا جائے گا تو اس کانقصان غریب عوام کو اٹھانا پڑے گا۔ پیپکو کا محکمہ عملاً ختم ہو چکا ہے۔ اب این ٹی ڈی سی میں اوپن مارکیٹ سے کوئی ماہر رکھا گیا۔ اس محکمے میں شروع سے انجینئرز سربراہ رہا ہے ماضی میں فوجی سربراہوں کے رکھنے کے رواج میں بھی یہاں واپڈا کا سی ای او تھا۔ اسی طرح نیپرا اور متبادل توانائی بورڈ کے سربراہان کا حال ہے۔ اس ساری صورت حال میں جہاں پہلے مرحلے میں سربراہان تبدیل ہونگے دوسرے مرحلے میں تمام تقسیم کار کمپنیوں کے سربراہان تبدیل ہونگے۔ اس عمل کے دوران واپڈا کے اپنے انجینئرز ان آسامیوں کے لئے اہل ہی نہیں ہونگے کیونکہ اشتہارات میں عمر کی حد 55 برس رکھی گئی ہے۔ عموماً دیکھا گیا ہے واپڈا کے چیف انجینئر کی عمر 58 برس تک ہو جاتی ہے۔ حکومت اس عمل کو جاری رکھنا چاہتی ہے تو عمر کی حد کو بڑھایا جائے۔ دوسری طرف انجینئرز برادری جس کی تشویش بڑھ گئی ہے ان کا کہنا ہے اس اقدام سے پاور سیکٹر کو شدید دھچکا لگے گا۔ جو سسٹم اس وقت رائج ہے اس کے تباہ ہونے کا خطرہ ہے کیونکہ ملکی پاور کا نظام صرف واپڈا کے انجینئرز ہی دیکھ سکتے ہیں کیونکہ ملک میں واپڈا کے متوازی کوئی ایسا ادارہ نہیں جہاں سے تجربہ کار انجینئر لئے جائیں۔ اس صورت حال پر انجینئرز ایسوسی ایشن نے جولائی کے پہلے ہفتے لاہور میں اجلاس طلب کر لیا ہے۔