سانحہ پشاور کیخلاف مظاہرے جاری، جوڈیشل انکوائری کرائی جائے: شیعہ علماءکونسل

لاہور+ اسلام آباد+ پشاور (خصوصی نامہ نگار+ نوائے وقت نیوز+ نامہ نگاران) شیعہ علماءکونسل، مجلس وحدت المسلمین سمیت دیگر مذہبی تنظیموں نے ملک بھر میں سانحہ مدرسہ حسینی پشاور کے خلاف لاہور سمیت کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے جاری رکھے جس میں حکومت سے سانحہ میں ملوث ملزموں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔ حیدر آباد پریس کلب کے سامنے کئے گئے احتجاجی مظاہرے کے شرکاءہاتھوں میں بینر کارڈز اٹھائے دہشت گردی کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ میانوالی سے نمائندگان کے مطابق ڈھیر امیر علی شاہ کے مقام پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور میانوالی بنوں روڈ کئی گھنٹے بند رکھی گئی۔ داﺅدخیل، ماڑی انڈس، ملی شاہ مردان اور نواحی علاقوں میں سینکڑوں لوگوں نے مظاہرے میں شرکت کی۔ مظاہرین نے کئی گھنٹے تک دھرنا دئیے رکھا۔ دریں اثناءشیعہ علماءکونسل نے خیبر پی کے حکومت کے خلاف احتجاج کا اعلان کر دیا۔ صدر شیعہ علماء کونسل علامہ رمضان توقیر نے کہا ہے کہ مدرسے پر حملے کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے۔ وزیراعلیٰ خیبر پی کے پرویز خٹک کے روئیے کی مذمت کرتے ہیں۔ لاہور میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے زیرِ اہتمام گزشتہ روز پریس کلب کے سامنے علامتی دھرنا و احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں علمائ، خواتین، بچوں سمیت نوجوانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ دھرنے کے شرکاءنے مطالبہ کیا کہ حکومت کھوکھلے نعروں اور جھوٹے وعدوں کی بجائے ملک میں دہشت گر دی کیخلاف موثر حکمت عملی ترتیب دی جائے اور دہشت گردوں کیخلاف فی الفور آپریشن شروع کیا جائے، سانحہ پشاور میں گرفتار درندوں کو فوری قرار واقعی سزا دی جائے، گرفتار شرپسندوں کو فوری انصاف کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزا دی جائے، احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی سیکرٹری جنرل پنجاب سید اسد عباس نقوی نے کہا کہ ملک میں منظم سازش کے تحت جاری شیعہ نسل کشی میں پھر سے شدت آگئی ہے۔ پُرامن رہنے کا یہ مطلب نہیں کہ محب وطن لوگوں کو دہشت گردوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا جائے۔ مظاہرے سے علامہ ابوذر مہدوی نے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں تبدیلی مہنگائی، دہشت گردی کی صور ت میں آ گئی ہے اگر حکومت اور سکیورٹی ادارے اِن معاملات میں اپنی ناکامی کا اعتراف کریں تو محب وطن عوام اِن دہشت گردوں کیخلاف میدان میں آنے کو تیار ہیں۔گوجرانوالہ سے نمائندہ خصوصی کے مطابق شیعہ علماءکونسل کے ضلعی صدر عمران سرور باجوہ اور رانا بشارت علی جواد کی قیادت میں گوجرانوالہ پریس کلب کے باہر احتجاج کرتے ہوئے مقررین نے کہا حکومت اور سکیورٹی ادارے اگر دیگر حملوں میں ملوث افراد کیخلاف فوری اور موثر کارروائی کرتے تو آج یہ سانحہ رونما نہ ہوتا۔ پاکستان دشمن عناصر دہشت گردی کی کارروائیوں میں تیزی لا کر اپنے مذموم مقاصد پر مبنی خارجہ پالیسی پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔