خسرہ سے مزید 3 بچے جاں بحق، پنجاب کے 12اضلاع میں انسداد مہم آج شروع ہوگی

لاہور/ فیروز وٹواں(نیوز رپورٹر+نوائے وقت نیوز+نامہ نگاران) خسرہ سے ہلاکتوں کا سلسلہ گزشتہ روز بھی جاری رہا اور فیروز وٹواں میں خسرہ کے باعث 7سالہ بچی دم توڑ گئی جبکہ ماموں کانجن میں 2 بچے چل بسے، چنیوٹ میں خسرہ کی وبا نے شدت اختیار کرلی ہے اور خسرہ کے 250 کیس سامنے آگئے ہیں جبکہ پنجاب کے 12 اضلاع میں 10 روزہ انسداد خسرہ مہم آج سے شروع کی جا رہی ہے۔ ڈی جی ہیلتھ پنجاب ڈاکٹر تنویر احمد کے مطابق خسرہ مہم میں ایک کروڑ 20 لاکھ بچوں کو ویکسین دی جائے گی۔ خسرہ مہم کے دوران بچوں کو وٹامن اے کے قطرے بھی پلائے جائیں گے۔ 9 اضلاع میں خسرہ کے ساتھ ساتھ پولیو کے قطرے بھی پلائے جائیں گے۔28 جون سے مزید 6 اضلاع میں خسرہ مہم کا آغاز ہو گا۔ گزشتہ 12 دنوں میں لاہور میں خسرہ کے باعث ایک بھی ہلاکت نہیں ہوئی۔ لاہور میں خسرہ کی وباءپر کنٹرول پایا جا چکا ہے۔ ترجمان محکمہ صحت کے مطابق انسداد خسرہ مہم کے دوران 4جولائی تک پرائمری سکولوں میں بھی بچوں کو ٹیکے لگائے جائینگے۔ ادھر فیروزوٹواں کے نواحی گاﺅں بہاولکوٹ کے کاشتکار غریب عالم گورائیہ کی 7 سالہ بیٹی زوبیہ 10 روز تک ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے باوجود جانبر نہ ہوسکی اور گزشتہ روز دم توڑ گئی۔ چنیوٹ سے نامہ نگار کے مطابق چنیوٹ شہر اور گرد و نواح کے علاقوں میں تین ماہ کے دوران خسرے کے مرض میں مبتلا بچوں کی تعداد 250 سے تجاوز کر گئی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے جبکہ چنیوٹ میں تین بچوں کی خسرہ کی وبا سے ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہیں اور گرد و نواح کے علاقوں میں ویکسین کی شدت قلت ہے۔ ماموں کانجن سے نامہ نگار کے مطابق خسرہ کے باعث 5 سالہ نسرین جبکہ 7 سالہ نوید دم توڑ گئے ادھر لاہور میں خسرہ سے ہلاکتوں کا سلسلہ تھم گیا۔ 24 گھنٹوں کے دوران لاہور میں خسرہ سے 25 مریض جبکہ پنجاب بھر کے مختلف ہسپتالوں میں 87 بچے رپورٹ ہوئے ہیں۔سرکاری ہسپتالوں میں گیسٹرو کے علاج معالجہ کے انتظامات نامکمل جس کی وجہ سے نجی ہسپتالوں کی چاندی ہوگئی۔ پنجاب بھر میں خسرہ کی وباءکے ساتھ ساتھ گیسٹرو کی وباءنے سر اٹھا لیا ہے جس کے نتیجہ میں ہزاروں مریض ہسپتالوں میں علاج معالجہ کے لئے آ رہے ہیں۔ لاہور کے سرکاری ہسپتالوں میو، جنرل، جناح میں ابھی تک مریضوں کو علاج کی سہولتیں دستیاب نہیں۔ گنگارام، سروسز میں آنے والے مریضوں کو انتظامیہ دوسرے سرکاری ہسپتالوں کی جانب بھجوا دیتے ہیں۔ گزشتہ روز لاہور کے ہسپتالوں میں 750 کے قریب گیسٹرو کے مریض لائے گئے۔ حافظ آباد سے نمائندہ نوائے وقت کے مطابق گیسٹرو کے مرض میں مبتلا ڈیڑھ سالہ بچی دم توڑ گئی۔ گیسٹرو کے مرض میں مبتلا 50 سے زائد بچوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال داخل کرا دیا گیا۔گکھڑ منڈی سے نامہ نگار کے مطابق وزیرآباد کو سپلائی کی جانے والی خسرہ اور پولیو ویکسین کی نقل و حمل میں مجرمانہ غفلت سے لاکھوں بچوں کی جان خطرے میں پڑ گئی۔ بچوں کو دی جانے والی خسرہ اور پولیوکی ویکسین گوجرانوالہ سے دیگر ہسپتالوں کو پہنچائی جاتی ہے۔جس گاڑی کے ذریعے ویکسین کی نقل و حمل کی جاتی ہے اس کا کولنگ سسٹم عرصہ درا ز سے خراب ہے اور انتہائی درجہ حرارت میں ویکسین کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاتا ہے۔ مذکورہ گاڑی ویکسین گوجرانوالہ سے کامونکے، نوشہرہ ورکاں اور وزیرآباد کے ہسپتالوں میں جاتی ہے جو کم و بیش 6گھنٹے کا وقت لیتی ہے۔اس دوران ویکسین کا اپنا درجہ حرارت موسم کے مطابق ہو جاتا ہے جبکہ اس کی نقل و حمل 2سے 8درجے سینٹی گریڈ میں کی جانا چاہئے۔ ماہرین کے مطابق زیادہ درجہ حرارت میں ویکسین کی افادیت کم ہو جاتی ہے اور بسا اوقات افادیت کھو دیتی ہے۔