امریکہ طالبان سے مذاکرات میں پاکستان کو بائی پاس کررہا ہے : مولانا فضل الرحمن

لاہور (آئی این پی) جمعیت علماءاسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ امریکہ طالبان سے مذاکرات میں پاکستان کو ”بائی پاس“ کر رہا ہے پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے اور افغانستان میں امن کے لئے قربانیاں دیں اس لئے پاکستان کو اعتماد میں لیا جانا مذاکرات کی کامیابی کے لئے ضروری ہے۔ ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ڈرون حملوں کی بندش، ملک کی مشرف دور سے شروع ہونے والی خارجہ پالیسی کو تبدیل کرنا ہوگا۔ اتوار کے روز جے یو آئی (ف) کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری اور سیکرٹری اطلاعات مولانا امجد خان سے ٹیلیفونک گفتگوکرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ طالبان اور امریکہ میں مذاکرات کی کوئی بھی شخص مخالفت نہیں کر سکتا اور آج امریکہ نے طالبان سے مذاکرات کر کے اصل میں ہمارے موقف کی تائید کی ہے کیونکہ ہم پہلے دن سے یہ کہہ رہے ہیں کہ امریکہ طاقت کے استعمال سے افغانستان میں امن قائم نہیں کر سکتا صرف مذاکرات ہی مسائل کا حل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک افغانستان میں غیر ملکی افواج موجود ہے وہاں پر امن نہیں ہو سکتا۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور افغانستان میں قیام امن کے لئے پاکستان نے بہت قربانیاں دیں اور خطے میں پاکستان کا انتہائی اہم کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی خطرناک صورت حال اختیار کر چکی ہے اور اس کے خاتمے کے لئے ضروری ہے کہ ملک میں دور پرویز مشرف میں بنائی گئی خارجی اورداخلی پالیسیوں کو تبدیل کر کے ملکی مفاد اور قومی امنگوں کے مطابق پالیسیوں کو تشکیل دیا جائے۔