”کشمیریوں پر حراستی تشدد“ عالمی ریڈ کراس نے وکی لیکس کی تصدیق کردی

نئی دہلی (کے پی آئی) انٹرنیشنل ریڈکراس کمیٹی نے کشمیر میں حراستی تشدد سے متعلق وکی لیکس‘ کے ذریعے افشاء کی گئی رپورٹ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمیٹی نے بھارتی افواج کی طرف سے کشمیری نظربندوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بارے میں امریکہ کو حساس اطلاعات فراہم کی تھیں۔ ریڈکراس کمیٹی نے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ نئی دہلی کے ساتھ بات چیت کی عدم موجودگی کے سبب یہ رپورٹ امریکہ کو سونپ دینے پر مجبور ہوگئی۔ انٹرنیشنل ریڈ کراس کمیٹی کی طرف سے کشمیر میں قیدیوں پر طرح طرح کا تشدد ڈھانے سے متعلق رپورٹ کا کمیٹی نے بھرپور دفاع کیا اور کمیٹی مسئلے پر بھارتی حکومت کے رویہ سے انتشار کا شکار تھی جس کے نتیجے میں اس نے ”حراستی تشدد“ سے متعلق رپورٹ سے امریکی حکام کو آگاہ کیا۔ نئی دہلی میں مقیم انٹرنیشنل ریڈکراس کمیٹی کے ترجمان الیکسس حیب نے ایک انٹر ویو کے دوران بتایا ”ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ سال 2005ءمیں اس وقت کمیٹی کے ذمہ داروں اور امریکی سفارتخانے کے درمیان میٹنگ منعقد ہوئی جب کمیٹی بھارتی حکام کے ساتھ بات چیت کی عدم موجودگی کی وجہ سے بوکھلاہٹ کی شکار ہوگئی تھی“۔ انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل ریڈکراس کمیٹی ہمیشہ متعلقہ حکام کے ساتھ خفیہ طریقے سے کام کرتی ہے لیکن کچھ مخصوص موقعوں پر جب بات چیت کے دروازے مختلف وجوہات کی بناء پر بند کردئیے جاتے ہیں تو کمیٹی اپنی حکمت عملی تبدیل بھی کرسکتی ہے۔ الیکسس حیب کا مزید کہنا تھا کہ اگر چہ کمیٹی اور کسی مخصوص ملک کے معاملے کے درمیان تیسرے فریق کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہئے لیکن کمیٹی نے اس معاملے پر امریکہ کو آگاہ کرکے ضوابط کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔ بھارتی حکام کو معلوم تھا کہ انٹرنیشنل ریڈکراس کمیٹی کی طرف سے یہ مسئلہ امریکہ کے نوٹس میں لایا جا رہا ہے۔