نوجوان ہماری امیدوں کا مرکز ہیں‘ ہمیں صرف پاکستانی کی حیثیت سے سوچنا چاہئے : مجید نظامی

لاہور (خصوصی رپورٹر) ہمیں صرف اور صرف پاکستانی کی حیثیت سے سوچنا اور عمل کرنا چاہیے۔ قائداعظمؒ نے بھی سندھی‘ پنجابی‘ بلوچی‘ بنگالی اور پٹھان قومیت کی نفی کر کے ہمیں ایک پاکستانی قوم کی شکل دی تھی۔ ان خیالات کا اظہار ممتاز صحافی اور نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین مجید نظامی نے وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی دعوت پر لاہور کے دورہ خیر سگالی و یک جہتی پر آئے ہوئے صوبہ بلوچستان‘ صوبہ سندھ اورصوبہ خیبر پی کے میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات کے پوزیشن ہولڈر طلباءو طالبات پر مشتمل وفد کی ایوانِ کارکنانِ تحریکِ پاکستان لاہور میں آمد پر ان سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر نظریہ پاکستان ٹرسٹ اور تحریکِ پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے عہدیداران نے وفد کو خوش آمدید کہا۔ پروگرام کا آغاز حسبِ معمول تلاوتِ قرآن پاک اور قومی ترانے سے ہوا۔ تلاوت کی سعادت سوات سے تعلق رکھنے والے طالبعلم حسن زیب نے حاصل کی۔ مجید نظامی نے اپنے خطاب میں کہا نوجوان ہماری امیدوں اور آرزوﺅں کا محور و مرکز ہیں اور پاکستان کا مستقبل اب آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ ہماری نسل نے تحریکِ پاکستان میں سرگرم کردار ادا کیا اور ہم اب بھی اپنے فرائض تن دہی سے ادا کر رہے ہیں۔ آپ بھی اپنی تعلیم پر بھرپور توجہ دیں اور جب عملی زندگی میں قدم رکھیں تو اس مملکتِ خداداد کو علامہ اقبالؒ اور قائداعظمؒ کا پاکستان بنائیں۔ اگرچہ فی الوقت ہمارے ملک کے حالات پریشان کن ہیں مگر یہ حالات ہمیشہ ایسے نہیں رہیں گے، انشاءاللہ بہت جلد درست ہو جائیں گے۔ جب پاکستان بن رہا تھا تو بلوچستان میں قبائلی جرگے نے لگ بھگ سو فیصد ووٹ قیام پاکستان کے حق میں دیئے تھے۔ صوبہ سرحد میں خان عبدالغفار خان نے پاکستان کی مخالفت میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا تھا مگر اس نے ریفرنڈم میں منہ کی کھائی اور سرحد کے لوگوں نے پاکستان میں شمولیت کے حق میں ووٹ دیئے۔ سندھ میں بھی جی ایم سید نے قیام پاکستان کی مخالفت کی مگر چونکہ پاکستان مشیت ایزدی تھا‘ لہٰذا قائم ہو کر رہا۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے پاکستان کے یہ تینوں صوبے پسماندہ ہیں مگر میں ایسا نہیں سمجھتا۔ سندھ کے پاس پاکستان کی سب سے بڑی کراچی کی بندرگاہ ہے۔ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی مرکز ہے تاہم ان دنوں کراچی میں ٹارگٹ کلنگ انتہائی افسوس ناک ہے۔ پاکستان کا سب سے بڑا اور ازلی و ابدی دشمن بھارت ہے جس نے آج تک پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا۔ وہ برصغیر کی تقسیم کو گاﺅ ماتا کے ٹکڑے کرنے کے مترادف سمجھتا ہے اور پاکستان کو ازسرنو بھارت میں شامل کر کے اکھنڈ بھارت کا خواب پورا کرنا چاہتا ہے۔ امریکہ ‘ اسرائیل اور بھارت پر مشتمل شیطانی اتحاد ثلاثہ پاکستان کی بقاءکے خلاف سازشوں میں مصروف ہے۔ ان میں سے امریکہ شیطان کبیر ہے جو بظاہر ہمارا دوست ہے تاہم میرے نزدیک اس سے بڑھ کر کوئی پاکستان کا دشمن نہیں۔ اسرائیل کے یہودیوں نے اپنی دولت کے بل بوتے پر امریکی انتظامیہ کی پالیسیوں پر کنٹرول حاصل کیا ہوا ہے۔ دوسری جانب امریکہ اسرائیل کو اپنے پالتو جانور کی مانند اسلامی ممالک کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ پاکستان چونکہ ایٹمی طاقت بن چکا ہے اس لیے بھارت کو کبھی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ پاکستان پر حملہ کرے تاہم ہمارا برادر اسلامی ملک ایران ایٹمی طاقت بننے کے قریب ہے‘ اس لیے اس کے خلاف امریکہ نے اسرائیل کو آگے کیا ہوا ہے جو آئے دن ایران کی جوہری تنصیبات کو تباہ کر دینے کی دھمکیاں دیتا رہتا ہے مگر انشاءاﷲ وہ کبھی ایسا نہیں کر سکے گا اور عین ممکن ہے ایک دن اسرائیل خود ہی ایرانی ایٹمی ہتھیاروں کا شکار ہو جائے۔ علامہ محمد اقبالؒ نے ہمیں تصور پاکستان دیا اور اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے قائداعظمؒکا انتخاب کیا جو ان دنوں لندن میں مقیم تھے۔ انہیں خطوط لکھ کر آمادہ کیا کہ وہ برصغیر واپس آ کر مسلم لیگ کی قیادت سنبھالیں۔ قائد اعظمؒ کی صدارت میں اسی شہر لاہور میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ 23 مارچ 1940ءکو قرارداد پاکستان منظور ہوئی اور پھر 1946ءکے انتخابات نے قیام پاکستان پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔ خان عبدالغفار خان اور جی ایم سید کی مخالفت کے باوجود پاکستان قائم ہو کر رہا اور اﷲ کے فضل و کرم سے تاقیامت قائم رہے گا۔ اگرچہ بھارت نے ننگی جارحیت کے ذریعے مشرقی پاکستان کو ہم سے الگ کر کے بنگلہ دیش بنا دیا مگر میں سمجھتا ہوں بنگلہ دیش بھی دوسرا پاکستان ہی ہے اور وہ بھی بھارت کی آنکھوں میں اسی طرح کھٹکتا ہے جس طرح پاکستان کھٹکتا ہے۔ میری دعا ہے کسی دن پاکستان اور بنگلہ دیش ایک کنفیڈریشن کی صورت میں دوبارہ متحد ہو جائیں۔ مجید نظامی نے وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کو خراج تحسین پیش کیا کہ وہ ملک بھر کے ہونہار طالبعلموں کی حوصلہ افزائی کر کے اہم قومی فریضہ سرانجام دے رہے ہیں بلا شبہ مسلم لیگی وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے ان کا یہ اقدام ہمیشہ سراہا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا بھارت کی فلمیں اور ڈرامے ہماری ثقافت کو تباہ کرنے کا ذریعہ ہیں اس لیے پاکستان میں ان کے دکھائے جانے پر پابندی عائد کر دینی چاہئے۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے طلبا و طالبات کو خوش آمدید کہتے ہوئے بتایا یہ ادارہ تحریک پاکستان میں حصہ لینے والوں اور پاکستان سے محبت کرنے والوں کا ادارہ ہے جس کا ایک مقصد نسلِ نو کو پاکستان کی اہمیت و عظمت سے آگاہ کرنا ہے ۔ قائداعظمؒ نوجوانوں کو ہیروں اور جواہرات سے تشبیہ دیتے تھے ہم انہیں پاکستان کے ماضی‘ حال اور مستقبل کے بارے میں حوصلہ افزا معلومات فراہم کرتے ہیں اور انہیں اپنی تہذیب و ثقافت کے وارث سمجھتے ہیں۔ ہمارا یقین ہے ہمارے نوجوانوں میں آگے بڑھنے اور شاندار کارنامے سرانجام دینے کی بیش بہا صلاحیتیں موجود ہیں‘ اس لیے ہم اپنا نظریاتی ورثہ نسل نو تک منتقل کرنے پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ تحریک پاکستان ایک عظیم الشان تحریک تھی جسے کامیاب بنانے کے لیے ان علاقوں کے مسلمانوں نے بھی سرگرم کردار ادا کیا جنہیں معلوم تھا ان کے علاقے پاکستان میں شامل نہ ہو سکیں گے۔ جب 14 اگست 1947ءکو پاکستان قائم ہوا تو ہم مادی وسائل سے تہی دامن تھے مگر عزم و استقلال سے مسلح تھے۔ آج ہم دنیائے اسلام کی واحد ایٹمی طاقت بن چکے ہیں اور ہم نے مختلف شعبوں میں حیرت انگیز ترقی کی ہے ۔ طلبا و طالبات کے بین الصوبائی دوروں کا زیادہ سے زیادہ اہتمام ہونا چاہئے تاکہ صوبائی ہم آہنگی کو فروغ حاصل ہو سکے۔ ہمارا ماضی بڑا زبردست رہا ہے مگر حال قابل رشک نہ ہونے کی وجہ یہ ہے قیام پاکستان کے کچھ عرصہ بعد اقتدار ان لوگوں کے ہاتھوں میں نہ رہا جنہوں نے آزادی کی جنگ لڑی تھی بلکہ اس پر وہ لوگ قابض ہو گئے جن کا تحریک پاکستان سے کوئی واسطہ نہیں تھا۔ انہوں نے نوجوانوں کو تاکید کی جب وہ ووٹ دینے کی عمر کو پہنچیں تو ان افراد کو ووٹ دیں جن کا ماضی داغدار نہ ہو اور جو پاکستان کو اس کے قیام کے مقاصد سے ہم آہنگ کرنے کا عزم رکھتے ہوں۔ پروگرام کے دوران طلبا کو قائداعظمؒ کی آواز میں 30 اکتوبر 1947ءکو لاہور کے یونیورسٹی گراﺅنڈ میں کی جانے والی تقریر کا اقتباس بھی سنوایا گیا۔ پروگرام کا اختتام پاکستان زندہ باد‘ قائداعظمؒ زندہ باد‘ علامہ اقبالؒ زندہ باد اور مادرِ ملتؒ زندہ باد کے فلک شگاف نعروں سے ہوا۔