وکلا کراچی میں فوج بلانے کی مخالفت کریں گے: عاصمہ جہانگیر

لاہور (وقائع نگار خصوصی) سپریم کورٹ بار کی صدر عاصمہ جہانگیر نے کراچی میں فوج بلانے کے ممکنہ اقدام کی مخالفت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی میں ہونے والی قتل و غارت میں تمام سیاسی جماعتیں ملوث ہیں۔ فوجی کراچی آئی تو حیدرآباد اور سکھر بھی دور نہیں ہیں۔ وہاں نہ صرف لسانی اور مختلف گروپ کام کر رہے ہیں بلکہ غیر ملکی اور دوسرے صوبوں سے آئے لوگ بھی بیٹھے ہیں۔ کراچی کے حالات میں جو بھی ملوث ہے اسے پکڑ کر بلاتفریق سزا دی جائے اگر کراچی میں فوج کو بلایا گیا تو وکلا برادری اس کی مخالفت کرے گی۔ کراچی میں حالات پر قابو پانے کے لئے فوج بلانے سے عدالتوں کا دائرہ کار محدود ہو جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری سپریم کورٹ بار قمر زمان قریشی اور دیگر عہدےدار بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں فوج بلانے سے عدالتوں کا دائرہ کار محدود ہو جائے گا‘ عوام کے اختیارات بھی کم ہوں گے‘ رینجرز اور پولیس جو کہ وہاں موجود ہیں انہیں زیادہ اختیارات دئیے جائیں تاکہ وہ حالات پر قابو پا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کے حالات میں تمام سیاسی جماعتیں ملوث ہیں۔ وہ سب اکٹھے مل بیٹھ کر صورتحال کا پرامن حل نکالیں۔ کراچی میں فوج بلانے سے متلعق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فوج بلانے سے بنیادی حقوق معطل ہو جائیں گے اور رینجرز والا واقعہ پھر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوات میں تو چیزیں نظر نہیں آئیں لیکن اگر کراچی میں نظر آئیں تو فوج کا تاثر کیا ہو گا۔ فوج آنے سے عدالتیں کینگرو کورٹس بن جائیں گی۔ لانگ مارچ سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے لانگ مارچ کی بات نہیں کی۔
عاصمہ