معاملات درست ہونے تک کراچی میں رہوں گا‘ ٹارگٹ کلرز کے چہرے نہ ڈھانپے جائیں: رحمن ملک

کراچی (سٹاف رپورٹر + مانیٹرنگ ڈیسک + وقت نیوز) وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا ہے کہ فکر نہ کی جائے ٹارگٹ کلرز کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی، بوری کلرز کے قریب پہنچ گئے ہیں جلد ختم کر دیں گے جو بھی ٹارگٹ کلرز پکڑے جائیں گے انہیں سامنے بھی لائیں گے، پولیس کو حکم دیا ہے کہ ٹاگٹ کلرز کے چہرے نہ ڈھانپے جائیں تاکہ دہشت گردوں کے سرغنہ دیکھ سکیں کہ ان کے کارندے گرفتار ہوئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ کراچی میں مختلف لوگوں کے مختلف مفادات ہیں جس کا مفاد متاثر ہوتا ہے وہ حالات خراب کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ 14 ٹارگٹ کلرز اور 8 بھتہ خوروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ٹارگٹ کلرز نے خود اپنی کارروائیوں کا اعتراف کیا ہے، 4 ٹارگٹ کلرز کو عدالت بھیج دیا‘ مزید کو بھیجیں گے۔ میں انڈر پریشر زیادہ اچھا کام کرتا ہوں۔ رحمن ملک نے کہا کہ کسی گلی، محلے یا سیاسی دفتر میں چھپنے والے کرمنلز کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔ وارننگ دیتا ہوں جو بندے اغوا کئے ہیں انہیں چھوڑ دیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے مینڈیٹ دیا ہے معاملات درست ہونے تک یہیں رہوں گا۔ انہوں نے کہا کہ میری ذوالفقار مرزا سے کوئی لڑائی نہیں ہوئی۔ ذوالفقار مرزا کا کہنا بھی ٹھیک تھا کہ آپ روز روز کیوں آجاتے ہیں۔ ذوالفقار مرزا میرے بھائی ہیں، میری اور ان کی لڑائی کی غلط خبر شائع کی گئی۔ میڈیا خبر نشر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کرے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں سرجیکل آپریشن انٹیلی جنس معاملات پر ہو گا‘ سپائیڈر مین یا سپرمین نہیں بن سکتا۔ گرفتار ٹارگٹ کلرز کو ٹی وی پر لانے کا وعدہ پورا کیا جائے گا۔ الطاف حسین بڑے لیڈر ہیں وہ جب موڈ میں ہوں تو سب کچھ کہہ سکتے ہیں‘ وزیراعظم سے مستعفی ہونے کے مطالبے پر بات نہیں کروں گا۔ ہڑتال ہوتی ہے تو نقصان دو کروڑ سے زائد کراچی کے باشندوں کا ہوتا ہے۔ دریں اثناءرحمن ملک نے عشرت العباد سے ملاقات کی۔ ملاقات میں شرپسند عناصر کے خلاف بلاتفریق کارروائی کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
رحمن ملک