چین کے ساتھ سرمایہ کاری کے فروغ‘ ہیپاٹائٹس سی ویکسین کی تیاری‘ بونجی ڈیم کی تعمیر کے معاہدے

ہنگ چو ’’چین‘‘ (اے پی پی) پاکستان اور چین نے شمالی علاقہ جات میں بونجی ڈیم کی تعمیر کے لئے ایم او یو پر دستخط کئے ہیں‘ یہ ایم او یو پاکستان کی وزارت بجلی و پانی اور چین کی تھری گارجز پراجیکٹ کارپوریشن کے درمیان ہوا۔ پاکستان کی جانب سے چیئرمین بورڈ آف انویسٹمنٹ سلیم مانڈوی والا اور چین کی جانب سے لی یانگ آن نے دستخط کئے۔ صدر آصف علی زرداری‘ چین میں پاکستان کے سفیر مسعود خان اور سینئر چینی حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ مسعود خان نے اے پی پی کو بتایا کہ بونجی ڈیم ان آٹھ ڈیموں میں شامل ہے جو چاروں صوبوں میں بنائے جائیں گے‘ اس سے 7000 میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی۔ دریں اثناء ہنگ چو میں واقع ژی جیانگ انسٹی ٹیوٹ آف وائر کنزروینسی اینڈ ہائیڈرو الیکٹرک پاور کی طرف سے چھوٹے اور درمیانے حجم کے ڈیموں‘ آبی تحفظ اور آبپاشی کے بارے میں بریفنگ کے موقع پر صدر زرداری نے پاکستان میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کیلئے پانی، کوئلہ اور سورج کی روشنی سے بجلی کی پیداوار کے شعبوں میں چینی معاونت کے حصول کا اظہار کرتے ہوئے چینی کمپنیوں کو فزیبلٹی سٹڈیز تیار کرنے کی دعوت دی ہے‘ چینی کمپنیوں کو منصوبوں کے قیام کیلئے ہر ممکنہ سہولت فراہم کی جائے گی۔ چینی کمپنیاں پاکستان میں کوئلہ‘ پانی اور سورج کی روشنی سے سستی بجلی پیدا کرنے میں معاونت کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو توانائی کی کمی کا سامنا ہے، ہمیں انفرادی رہائشی یونٹوں کیلئے شمسی توانائی کی ضرورت ہے‘ میں چینی کمپنیوں کو پاکستان میں اس کا جائزہ لینے کی دعوت دیتا ہوں۔ پاکستان چینی کمپنیوں کو ایسے بجلی گھروں کے قیام کیلئے درکار ممکنہ معاونت کی فراہمی کیلئے تیار ہے جو نہ صرف سستے بلکہ رہائشی اور تجارتی یونٹوں کیلئے بھی موزوں ہوں۔ قبل ازیں انسٹیٹیوٹ کے صدر لی یو منگ نے کہا کہ انہوں نے آزاد کشمیر میں درمیانے حجم کے ڈیموں کی سٹڈیز کی ہیں‘ دنیا بھر میں بالخصوص افریقہ، جنوبی امریکہ اور ترکی میں ایسے سو سے زائد ڈیم تعمیر کئے ہیں۔ چیئرمین واپڈا شکیل درانی نے بتایا کہ چینی کمپنیاں نیلم جہلم، گومل زام اور منگلا ڈیم کی توسیع سمیت پاکستان میں کئی ہائیڈل منصوبوں پر کام کر رہی ہیں۔ انسٹیٹیوٹ کو پاکستان میں 12 چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کیلئے پیشکش کیلئے مدعو کیا جائے گا۔ ژی جیانگ ژنگ تائی سولر انرجی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کمپنی کے صدر یانگ لی ژو نے صدر آصف علی زرداری سے ملاقات میں کہا کہ ان کی کمپنی پاکستان میں شمسی توانائی کی پیداوار شروع کرنے کیلئے تیار ہے‘ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ وہ چاہیں گے کہ یہ کمپنی پاکستان آئے اور چھوٹے اور درمیانے حجم کے شمسی توانائی یونٹوں کا آغاز کرے جو نہ صرف سستے ہوں بلکہ ان کی دیکھ بھال بھی سستی پڑے۔ چینی کمپنیوں کو منصوبوں کے قیام کیلئے ہرسہولت دی جائے گی۔ بعدازاں یانگ لی ژو نے ’’اے پی پی‘‘ کو بتایا کہ ان کی کمپنی گھروں اور صنعتوں کیلئے چھوٹے سولر پاور یونٹوں اور بڑے یونٹوں میں خصوصی مہارت رکھتی ہے جو 20 میگاواٹ تک ہوتے ہیں۔ ہمیں پاکستان میں سولر پاور منصوبے قائم کر کے بجلی کی کمی پر قابو پانے میں پاکستان کی مدد کر کے خوشی ہوگی۔ سولر یونٹس پاکستان کے ماحول کے انتہائی موزوں ہیں۔ ژی جیانگ اکیڈمی آف ایگریکلچر سائنسز کے صدر چن جیانگ پنگ نے صدر آصف علی زرداری کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی کو غلہ کی فراہمی کیلئے بہتر زرعی طریقے اپنانے کی ضرورت ہے جس سے نہ صرف پیداوار زیادہ ہو گی بلکہ آبپاشی کیلئے کم پانی استعمال ہو گا۔ صدر نے کہا کہ پاکستان میں بہت زرخیز زمین ہے جسے بیجوں کی مخلوط اقسام کو استعمال کر کے بہتر انداز میں بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ چن جیانگ پنگ نے ’’ اے پی پی‘‘ کوبتایا کہ ان کا ادارہ پاکستان کے زرعی اداروں اور سائنسدانوں کو بہتر زرعی طریقے بروئے کار لانے میں رہنمائی فراہم کرتے ہوئے اشتراک کار کرے گا۔صدر آصف علی زرداری کو چھوٹے‘ بڑے ڈیموں اور آبپاشی کے نظام سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ چینی کمپنی چے چیانک ڈائزین انسٹیٹیوٹ آف کنسروینسنی ہائیڈرو الیکٹرانک پاور کے صدر لی بوئے بیگ اور چنک بنگ پاور کنسٹرکشن کے جنرل منیجر دوچی فو نے صدر کو بتایا کہ ان کے کئی انجینئر اور تربیت یافتہ سٹاف پاکستان میں اس طرح کے ڈیموں کے تکنیکی پہلوں کا جائزہ لینے کے لئے گیا ہے‘ وہ کم لاگت میں بہترین کام اور کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ پانی کے ذخائر کے حوالے سے انہوں نے پاکستان میں کئی منصوبوں میں دلچسپی ظاہر کی۔ سولر انرجی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کمپنی کے صدر نے بھی صدر آصف علی زرد اری سے ملاقات کی اور سولر انرجی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ چے جیانگ اکیڈمی آف ایگری کلچرل اینڈ سائنس کے صدر چن جیان پنگ نے صدر سے ملاقات میں زرعی سائنس کے فروغ کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔ صدر زرداری نے کہا ہے کہ مستقبل میں پاکستان دنیا بھر کیلئے بڑا تجارتی راستہ ہوگا اور چین کو اس کا سب سے بڑا فائدہ پہنچے گا۔ چے چیانگ میں صوبے کی کمیونسٹ پارٹی کے سیکرٹری جنرل چی ہونگ چوسے گفتگو میں صدر نے کہا کہ پاکستان اور چین علاقائی اور بین الاقوامی معاملات پر مشترکہ موقف رکھتے ہیں۔ چی ہونگ چو نے کہا کہ پاکستان اور چین تجارت‘ سائنس ا ور تعلیم کے میدان میں ایک دوسرے کے ساتھ مثالی تعاون کررہے ہیں اور مستقبل میں اسے مزید فروغ دیا جائے گا۔ صدر زرداری نے کہا کہ چین تجارت اور سرمایہ کاری کے حوالے سے مستقبل کی سپرپاور ہے اور وہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے بھرپور تعاون کرے گا۔ پاکستان چائنا ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ فورم سے خطاب کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ ہم چین کی آئیڈیالوجی اور اعتماد کا اہم جزو ہیں اور میں چین کے تعاون کے حصول کیلئے چین کے ہر کونے میں جائوں گا۔ صدر آصف نے چیچیان چین تائی سولر انرجی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کمپنی کے صدر ینگ لیو سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان میں شمسی توانائی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔دریں اثناء چین ا ور پاکستان کے درمیان سرمایہ کاری کے فروغ اور ہیپاٹائٹس سی کی ویکسیئن کی تیاری کے معاہدے پر بھی دستخط ہوگئے ہیں۔ چین کے ساتھ 7ہزار ایک سو میگاواٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کا معاہدہ طے پایا ہے۔