وزیراعلیٰ ہائوس کے مکتوبات کی زبان لینگویج آف بزنس کے منافی ہے‘ گورنر ہائوس ۔۔۔ طریق کار کے مطابق ہے ‘ ذرائع چیف منسٹر ہائوس

لاہور (رپورٹ: سلمان غنی) پنجاب میں ججز کے تقرر پر گورنر سلمان تاثیر اور وزیراعلیٰ شہباز شریف کے درمیان پیدا شدہ محاذ آرائی اور تنائو کی کیفیت کے بعد گورنر ہائوس اور وزیراعلیٰ ہائوس کے درمیان ہونے والی خط و کتابت کے حوالہ سے بھی نیا تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ گورنر ہائوس کی جانب سے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو بھجوائے جانے والے ایک مکتوب میں ججز کے ایشو سمیت بعض امور پر وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری کی جانب سے گورنر ہائوس بھجوائے جانے والے مکتوبات میں اختیار کئے جانے والے طرزعمل‘ ان میں استعمال کی جانے والی زبان اور ان میں استعمال کی جانے والی قانونی اصطلاحات کو جواز بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ شخص فیڈرل حکومت کا ملازم ہے اور اسے سٹیٹ کے مفادات کے تحت خود کو آئین اور قانون کا پابند رہتے ہوئے ڈیوٹی سرانجام دینی چاہئے خصوصاً حکومتی اداروں کے درمیان خط و کتابت میں وہی طریقہ کار اور زبان استعمال کرنی چاہئے جو لینگوئج آف حکومت اور لینگوئج آف بزنس ہے لیکن انہوں نے ان مکتوبات کے ذریعے باقاعدہ فریق بنتے ہوئے جو طرزعمل اختیار کیا ہے وہ سٹیٹ کے ملازم ہونے کی بجائے کسی شخص کی خوشامد اور اسکے مفادات اور پوائنٹ آف ویو پر مبنی ہے جو کسی بھی طور پر اسے زیب نہیں دیتا لہٰذا ایسا شخص ایسے کسی منصب پر رہنے کا اہل نہیں۔ مذکورہ مکتوب کے ساتھ وزیراعظم کو وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری کی جانب سے گورنر پنجاب کو بھجوائے جانے والے مکتوبات بھی بھجوائے گئے ہیں۔ گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے مذکورہ مکتوب کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ میں نہیں سمجھ سکا کہ فیڈرل حکومت کے ایک ملازم نے اداروں کے درمیان خط و کتابت میں ایسی زبان کیوں استعمال کی۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ ہائوس سے رابطہ کیا گیا اور مذکورہ مکتوبات کے حوالے سے وزیراعلیٰ ہائوس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جو مکتوب بھی گورنر ہائوس کو بھجوائے گئے ہیں وہ حکومتی طریقہ کار کے عین مطابق اور پنجاب حکومت کے موقف پر مبنی ہیں لہٰذا ان میں ایسا کوئی طرزعمل اختیار نہیں کیا گیا جو گورنر یا گورنر ہائوس کیلئے قابل اعتراض ہو۔ علاوہ ازیں پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنااللہ خان نے خنجر کے حوالہ سے پیدا شدہ صورتحال کے حوالہ سے واضح کیا کہ پنجاب حکومت آئین اور قانون کی پابند ہے اور ججز کی تقرری کے حوالہ سے اگر عدالت عظمٰی نے جسٹس ڈوگر کی غیر آئینی مشاورت کو تسلیم نہیں کیا تو پھر گورنر پنجاب کو بتانا پڑے گا کہ انہوں نے اس حوالہ سے کس سے مشاورت کی کونسا ایسا میکانزم ان کے پاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت جہاں اقتدار اعلیٰ خدا تعالیٰ کی اور پھر حکومت کو عوام کے ذریعے حاصل ہے تو ہائیکورٹ کا ادارہ بھی پنجاب حکومت کا حصہ ہے۔ اور پنجاب حکومت بھی آٹھ کروڑ عوام کی تائید سے ان کے منتخب ارکان کے ذریعے قائد ایوان کو یہ حق دیتی ہے کہ ان کی رائے کے تحت ہی پنجاب کے حوالے سے فیصلے ہوں انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں آئین کا آرٹیکل 145‘ 58-2-B اور 112 اس حوالہ سے واضح ہیں ان کے تحت گورنر ہر اقدام وزیراعلیٰ کی اجازت اور مشورے سے مشروط ہے۔ رانا ثناء اللہ خان نے کہا کہ گورنر بتائیں کہ ان کے پاس کون سا ایسا میکانزم ہے کہ وہ ججوں کی تقرری کے حوالہ سے چھان بین کر سکیں۔ وہ پنجاب کی سطح پر جن بھی اداروں کو استعمال کرنا چاہیں گے وہ وزیراعلیٰ کی ہدایت اجازت کے پابند ہیں لہٰذا وہ خواہ مخواہ کی لڑائی میں نہ الجھیں۔